ہاری ہوئی سیریز میں ایک اور کا اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹیم کے سب سے لاڈلے بیٹسمین احمد شہزاد اپنے کھاتے میں ایک اور ناکام اننگز لکھ کر پویلین لوٹ گئے

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دورے کی ابتدا آکلینڈ کے ایڈن پارک میں ٹی ٹوئنٹی کی جیت سے کی تھی لیکن اسی میدان میں دورے کے آخری میچ میں وہ تیسرا اور فیصلہ کن ون ڈے 3 وکٹوں سے ہارگئی جس کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس شکست نے اسے سیریز کی ناکامی سے بھی دوچار کردیا۔

اس میچ کا فیصلہ ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت ہوا۔ پاکستانی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے290 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

نیوزی لینڈ کا اسکور 35.3 اوورز میں پانچ وکٹوں پر210 رنز تھا تو بارش کی وجہ سے کھیل روک دیا گیا اور جب کھیل شروع ہوا تو نیوزی لینڈ کو نظرثانی شدہ ہدف 263 رنز کا دیا گیا جس کامطلب یہ تھا کہ اسے45 گیندوں پر جیت کےلیے53 رنز درکار تھے جو اس نےدو گیندیں قبل حاصل کرلیے۔

اس میچ میں پاکستانی بیٹنگ کی مجموعی کارکردگی ایک بار پھر مایوس کن رہی۔

ٹیم کے سب سے لاڈلے بیٹسمین احمد شہزاد اپنے کھاتے میں ایک اور ناکام اننگز لکھ کر پویلین لوٹ گئے۔

آخری دس ون ڈے اننگز میں وہ صرف ایک بار پچاس سے بڑا اسکور کرسکے ہیں۔

کپتان اظہرعلی بھی بڑی اننگز نہ کھیلنے کے سبب دباؤ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

محمد حفیظ اور بابراعظم نے نصف سنچریاں اسکور کرتے ہوئے 134 رنز کی شراکت کے ذریعے ابتدائی مایوسی کی تلافی کی لیکن ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم ایک بار پھر پرانی ڈگر پر آگئی۔

محمد حفیظ نے صرف ساٹھ گیندوں پر 76 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں پانچ چھکے اور پانچ چوکے شامل تھے۔

بابراعظم نے اپنے ون ڈے کریئر کی بہترین انفرادی اننگز کھیلتے ہوئے83 رنز بنائے۔

ان کی مستقل مزاجی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی9 اننگز میں5 نصف سنچریاں بناچکے ہیں جن میں سے آخری تین مسلسل اننگز میں اسکور کی ہیں۔

بابر اعظم نے شعیب ملک کے ساتھ بھی61 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

شعیب ملک جو پیر کی تکلیف سے صحت یاب ہونے کے بعد صہیب مقصود کی جگہ ٹیم میں شامل ہوئے بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 32 رنز بناسکے۔انہی کے آؤٹ ہونے سے لوئر آڈر بیٹنگ ایکسپوز ہوگئی اور نیوزی لینڈ کے بولرز نے اسکور کو تین سو تک پہنچنے نہیں دیا۔

محمد رضوان اس بار بھی رن آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ورلڈ کپ کے بعد سے وہاب ریاض ابھی تک شین واٹسن کو کرائے گئے اسپیل کے زعم میں ہی ہیں اور ایک کے بعد ایک غیرمتاثر کن بولنگ ان کے کھاتے میں درج ہوتی جارہی ہے

وکٹ کیپر سرفراز احمد نے41 رنز بنائے لیکن وہ پورے اوورز کھیلنے میں ناکام رہے ۔اگر وہ اننگز کے آخر تک کریز پر ٹھہر جاتے تو بچ جانے والی پندرہ گیندوں میں یقیناً چند قیمتی رنز کا اضافہ ہوجاتا۔

نیوزی لینڈ نے عمدہ فیلڈنگ کی روایت برقرار رکھی ۔ وکٹ کیپر رونکی اور مارٹن گپٹل کے چار چار کیچز نے اپنے بولرز کا خوب حوصلہ بڑھایا۔

نیوزی لینڈ کی اننگز میں برینڈن میک کیولم کی وکٹ صفر پر حاصل کرکے پاکستانی ٹیم نے جیسے میدان مارلیا تھا لیکن مارٹن گپٹل اور کیم ولیم سن ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ نہ آئے۔ دونوں نے دوسری وکٹ کی شراکت میں نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی شراکت میں 159 رنز بناڈالے۔

یہ دونوں اظہرعلی کی وکٹ بنے جس کے بعد پاکستانی بولرز گرانٹ ایلیٹ اور ہینری نکلس کی وکٹیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت ملنے والے نظرثانی شدہ ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ نے کورے اینڈرسن اور رونکی کی وکٹیں گنوائیں لیکن راحت علی کی گیند پر اینڈرسن کو وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ نہ دینے کا امپائر بلی باؤڈن کا فیصلہ پاکستانی ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوا جنہوں نے اسی اوور میں دو چھکے لگاکر میچ کو پاکستان سے دور کردیا۔ رہی سہی کسر وہاب ریاض نے پوری کردی جن کے آخری اوور میں مچل سینٹنر نے دو چوکے لگا دیے۔

ورلڈ کپ کے بعد سے وہاب ریاض ابھی تک شین واٹسن کو کرائے گئے اسپیل کے زعم میں ہی ہیں اور ایک کے بعد ایک غیرمتاثر کن بولنگ ان کے کھاتے میں درج ہوتی جارہی ہے۔

اظہرعلی کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم چھ میں سے تیسری ون ڈے سیریز ہاری ہے لیکن کوچ وقاریونس کا ریکارڈ اس سے بھی زیادہ خراب ہے وہ دس میں سے سات ون ڈے سیریز ہارچکے ہیں۔

اسی بارے میں