آئی سی سی کا ’بگ تھری‘ کے اختیارات کم کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption آئی سی سی اپنے سنہ 2014 کے آئین کا ’مکمل طور پر ازسرِ نو‘ جائزہ لے گی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے اختیارات کو کم کرنے فیصلہ کیا ہے۔

آئی سی سی کے چیئر مین ششناک منوہر کا جمعرات کو دبئی میں ہونے والے اجلاس کے بعد کہنا تھا کہ ادارے کا کوئی رکن دوسرے سے بڑا نہیں ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ادارے کی فنانس اینڈ کمرشل ایگزیکٹو کمیٹی نے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی مستقل پوزیشن کو ختم کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے ۔

بیان کے مطابق آئی سی سی اپنے سنہ 2014 کے آئین کا ’مکمل طور پر ازسرِ نو‘ جائزہ لے گی جو کرکٹ کی دنیا کے’ بگ تھری‘ (بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ) کو سپورٹ کرتا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس جائزے کا مقصد کرکٹ کی گورنس، فنانس، کارپوریٹ اور ڈھانچے میں آئی سی سی اور اس کے تمام رکن ممالک کے کردار کو موثر بنانا ہے۔

خیال رہے کہ آئی سی سی نے سنہ 2014 میں بڑے پیمانے پر متنازع تبدیلیاں کرتے ہوئے کرکٹ میں 80 فیصد آمدنی فراہم کرنے والے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے بورڈز کو مکمل صوابدیدی اختیارات سونپ دے دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی سی سی کے چیئر مین ششناک منوہر کا کہنا تھا کہ ادارے کا کوئی رکن دوسرے سے بڑا نہیں ہے

اس تبدیلی کے ساتھ ہی آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام کا اختتام ہو گیا تھا اور تمام رکن ممالک کوسنہ 2023 تک اس بات کا اختیار دیا گیا تھا کہ وہ دوطرفہ سیریز کا انعقاد باہمی مشاورت سے کریں اور اس سلسلے میں آئی سی سی کسی قسم کا کردار ادا نہیں کرے گی۔

آئی سی سی کے بیان کے مطابق ادارے کے نئے چیئر مین کا انتخاب آئی سی سی کا بورڈ دو سال کی مدت کے لیے جون میں کرے گا اور اس عمل کی نگرانی ایک آزادانہ آڈیٹ کمیٹی کرے گی۔

بیان کے مطابق منتخب ہونے والے چیئر مین کو کسی رکن بورڈ کے ساتھ کوئی عہدہ رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

آئی سی سی کے چیئر مین ششناک منوہر کا اجلاس کے بعد کہنا تھا کہ ہمارا اجلاس بہت مثبت رہا اور اس میں کیے جانے والے فیصلوں کا مقصد نہ صرف آئی سی سی بلکہ دوسرے بورڈز کے گورنس کے معاملات میں شفافیت لانا ہے۔

اسی بارے میں