پاکستان سپر لیگ کو درپیش مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption پاکستان سپر لیگ کا ایک اور بڑا چیلنج دبئی اور شارجہ کے میدانوں کا تماشائیوں سے بھرنا ہے

پاکستان سپر لیگ دو بار التوا کا شکار ہونے کے بعد بلاآخرحقیقت کا روپ دھارنے میں کامیاب ہوگئی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس صورتِ حال پر بہت خوش ہے کہ اس نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے غیر ملکی کرکٹرز کی بڑی تعداد کے ساتھ یہ لیگ سجا لی ہے، جس کے بارے میں اس لیگ کے روح رواں نجم سیٹھی کو یقین ہے کہ یہ آئی پی ایل کے بعد دوسری سب سے اہم لیگ ثابت ہوگی۔

ٹی20 کی مقبولیت نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے تقریباً تمام ہی ممالک کو اس بات پر مجبور کر رکھا ہے کہ وہ تجارتی بنیادوں پر لیگ منعقد کرائیں۔ تاہم ان میں صرف آئی پی ایل ہی وہ واحد لیگ ہے جو متعدد نوعیت کے مسائل میں گھرے رہنے کے باوجود ابھی تک قدم جمائے ہوئے ہے۔

آئی پی ایل میں متعدد فرنچائزز کے مالی مشکلات سے دوچار ہونے کی اطلاعات آتی رہی ہیں اور پھر سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے بھی اس کا دامن داغدار کیا۔

دوسری جانب سری لنکن لیگ صرف ایک بار منعقد ہونے کے بعد ہی کرپشن کی بھینٹ چڑھ گئی۔

بنگلہ دیش نے اس سال اپنی لیگ ضرور کرائی لیکن ماضی میں میچ فکسنگ کے سبب اس کا دامن بھی صاف نہیں رہا۔

ان حالات میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ کے کرتا دھرتاؤں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ پاکستان کی اس پہلی لیگ کو کسی بھی طرح متنازع نہ بننے دیں کیونکہ پاکستانی کرکٹ اب کرپشن کے کسی بھی تنازعے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے بارے میں ابھی سے یہ بات بھی کہہ رکھی ہے کہ فوری طور پر اس لیگ کے منافع بخش ہونے کی توقع نہ رکھی جائے۔

اصل امتحان فرنچائزز کا ہوگا کہ وہ یہ خسارہ کیسے اور کب تک برداشت کر سکیں گی۔ کیونکہ اس لیگ کے لیے ٹی وی کے نشریاتی حقوق کا کوئی بڑا معاہدہ نہیں ہو سکا جس سے ان پانچ فرنچائزز کو بڑی رقم مل سکے۔

پاکستان سپر لیگ کا ایک اور بڑا چیلنج دبئی اور شارجہ کے میدانوں کا تماشائیوں سے بھرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں جاری ماسٹرز چیمپئنز لیگ میں موجود ماضی کے مشہور کھلاڑی برائن لارا، ژاک کیلس، ایڈم گلکرسٹ، مرلی دھرن اور سنگا کارا کی کشش بھی شائقین کو اپنی جانب متوجہ نہیں کر سکی ہے۔

ان حالات میں پاکستان سپر لیگ میں تماشائیوں کی غیرمعمولی دلچسپی بھی منتظمین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگی کیونکہ اس میں اکثریت پاکستانی کرکٹرز کی ہے اور چند ہی بڑے غیر ملکی نام اس میں شامل ہیں۔

اگرچہ اس لیگ کے ٹکٹ مہنگے نہیں ہیں لیکن یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ایشیائی باشندوں کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے اور وہ صرف چھٹی کے دنوں میں کھیلے جانے والے میچ دیکھنے کے لیے میدانوں کا رخ کرتی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے بارے میں ہر کوئی یہی بات کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ یہ پاکستانی کرکٹ کی نئی سمت متعین کرے گی لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ملک سے باہر ہونے والی یہ لیگ دنیا کو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے قائل کرسکے گی؟

اسی بارے میں