ہارون رشید کی کمنٹری سے شہریار خان ناراض

Image caption پاکستان ٹیم کے چیف سلیکٹر ہارون رشید پاکستان سپر لیگ میں ایک ایم ایف سٹیشن کے لیے کمنٹری کر رہے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے چیف سلیکٹر ہارون رشید کے پاکستان سپر لیگ میں کمنٹری کرنے پر سخت ناراضی ظاہر کی ہے۔

منگل کو شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہارون رشید کے کمنٹری کرنے سے بالکل خوش نہیں ہیں۔ وہ آئی سی سی کے اجلاس کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے اور انھیں واپس آنے پر اس بارے میں پتہ چلا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ ضرور معلوم کریں گے کہ ہارون رشید کمنٹری کیوں کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ہارون رشید ان دنوں متحدہ عرب امارات میں بیک وقت تین ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ وہ قومی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان سپر لیگ کی ٹیکنیکل کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں اس کے علاوہ وہ ایک ایف ایم ریڈیو سٹیشن سے پاکستان سپر لیگ کے میچوں کی کمنٹری بھی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہارون رشید کو کمنٹری کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں تھا، لیکن ہارون رشید نے بورڈ کے سامنے سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد کی مثال رکھی کہ وہ قومی کرکٹ اکیڈمی سے وابستہ ہیں اور لاہور قلندر کے کوچنگ سٹاف میں شامل ہونے کے باوجود ایک ٹی وی چینل پر ماہرانہ تبصرے کر رہے ہیں۔

اس کے بعد پاکستان سپر لیگ کے اعلیٰ ترین عہدیدار کے کہنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہارون رشید کو کمنٹری کی اجازت دے دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی سی سی کے اجلاس کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا واپس آنے پر پتہ چلا کہ ہارون رشید کمنٹری کر رہے ہیں: شہریار خان

یاد رہے کہ چیف سلیکٹر ہارون رشید اور ایک سلیکٹر اظہر خان نے گذشتہ سال فیصل آباد میں ہونے والے ٹی 20 ٹورنامنٹ میں بھی کمنٹری کی تھی، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ پی ٹی وی کو کمنٹیٹرز دستیاب نہیں تھے لہٰذا ان دونوں کو کمنٹری کی اجازت دی گئی۔

انھوں نے کہا تھا کہ آئندہ کسی بھی سابق ٹیسٹ کرکٹر کو جو پاکستان کرکٹ بورڈ کا ملازم ہے کمنٹری کی اجازت نہیں دی جائے گی، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ چند ماہ بعد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ٹیسٹ کرکٹر ملازمین کو قومی ٹی20 ٹورنامنٹ میں کمنٹری کی اجازت دے دی تھی جو ان کے اس سابقہ دعوے کی نفی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ سے وابستہ کمنٹری کے خواہش مند ٹیسٹ کرکٹروں نے بورڈ کے ارباب اختیار سے کمنٹری کی اجازت حاصل کرنے کا یہ آسان راستہ اختیار کر رکھا ہے کہ اگر باہر سے کوئی دوسرا کرکٹر کمنٹری کرے گا تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے لہٰذا بورڈ اپنے ہی ملازم کرکٹروں سے کمنٹری کرائے۔

اسی بارے میں