’میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بہت پہلے کھیل چکا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption سر ویوین رچرڈز ان دنوں پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے’گرُو‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں

ویسٹ انڈیز کے شہرۂ آفاق بیٹسمین سر ویوین رچرڈز کے بارے میں متفقہ رائے یہ ہے کہ ان سے زیادہ بے رحم بیٹسمین دنیا نے نہیں دیکھا۔

ایک ایسے دور میں جب فاسٹ بولنگ کی گرمی نے بڑے بڑے بیٹسمینوں کو پگھلا دیا، سر ویوین رچرڈز نے ڈینس للی، جیف تھامسن، عمران خان، سررچرڈ ہیڈلی، گارتھ لی رو اور کئی دوسرے فاسٹ بولرز کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔

رچرڈز کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزڈن نے انھیں صدی کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا تیسرا عظیم ترین اور ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کا سب سے بڑا بیٹسمین بھی قرار دیا۔

سر ویوین رچرڈز ان دنوں پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے’گرُو‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور کوئٹہ کے کھلاڑیوں کی اس سے زیادہ اور کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے کہ انھیں ایک عظیم بیٹسمین کے وسیع تجربے سے مستفید ہونے کا بھر پور موقع ملا ہے ۔

سر ویوین رچرڈز نے دبئی سے بی بی سی کو دیےگئے خصوصی انٹرویو میں ٹی ٹوئنٹی کو انتہائی دلچسپ اور بے حد مقبول کرکٹ قراردیا ہے ۔

’ٹی ٹوئنٹی ایک زبردست فارمیٹ ہے۔ اس نے کرکٹ کو نئی زندگی دی ہے جسے لوگ بڑی تعداد میں دیکھنے آتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سے کھلاڑیوں کو بے حد مالی فائدہ بھی ہوا ہے۔‘

سر ویوین رچرڈز سے میں نے پوچھا کہ کیا یہ خیال دل میں نہیں آتا کہ کاش آپ نے بھی ٹی ٹوئنٹی کھیلی ہوتی ؟ تو ان جواب بھی خاصا دلچسپ تھا۔

’میں نے اپنے کریئر میں جس طرح کی کرکٹ کھیلی ہے وہ اسی انداز سے ملتی جلتی ہے جو آج دنیا ٹی ٹوئنٹی میں دیکھ رہی ہے۔ مطلب یہ کہ میں یہ کرکٹ بہت پہلے کھیل چکا ہوں لہذا یہ میرے لیے نئی نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ تیز سکورنگ والی یہ طرز کرکٹ کھیل کر میں یقیناً بھرپور لطف اٹھاتا۔‘

سر ویوین رچرڈز نائٹ ٹیسٹ میچ اور گلابی گیند کے حق میں ہیں۔

’ہر وہ تبدیلی جس سے شائقین کی دلچسپی برقرار رہے یا اس میں اضافہ ہو اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ ابھی یہ تجرباتی شکل میں ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر کیوں نہیں۔‘؟

سر ویوین رچرڈز کو باؤنسرز کی تعداد محدود کیےجانے پر سخت اعتراض ہے کیونکہ اس سے توازن بیٹسمین کے حق میں چلا گیا ہے۔

’وقت کے ساتھ ساتھ کھیل میں تبدیلیاں آئی ہیں مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ فاسٹ بولر کے باؤنسر کی تعداد محدود کردی گئی ہے۔ اب ایک باؤنسر کے بعد امپائر بولر کو بتا دیتا ہے کہ آپ اپنے اوور کا ایک باؤنسر کرچکے، دوسرا کرنے پر نو بال ہوجائےگی۔اس طرح بیٹسمین کو پتہ چل چکا ہے کہ اگلی گیند باؤنسر نہیں ہوگی اور اسے کوئی ڈر خوف نہیں ہوگا۔ درحقیقت شارٹ پچ گیند سے بیٹسمین کو چونکانے کا عنصرختم ہو چکا ہے۔‘

سر ویوین رچرڈز کو یقین ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم بہت جلد دوبارہ اپنا روایتی مقام حاصل کرلے گی۔

’ہر عظیم ٹیم کبھی نہ کبھی نیچے ضرور آتی ہے اور یہی کچھ ویسٹ انڈیز کے ساتھ بھی ہوا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ زیادہ عرصے جاری نہیں رہے گا۔ جزائر غرب الہند میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے جو ویسٹ انڈیز کو دوبارہ اس کے پرانے مقام پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے لیے ویسٹ انڈیز کا کلر پہننے والے ہر کرکٹر اور انتظامیہ کو سوچنا ہوگا کہ ویسٹ انڈین کرکٹ کی کیا اہمیت ہے؟ یہ اہمیت صرف دنیا کے سامنے نہیں ہے بلکہ یہ اہمیت ویسٹ انڈیز کے اپنے شائقین کے لیے بھی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر سب مثبت انداز سے سوچنا شروع کردیں تو ویسٹ انڈین کرکٹ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔‘

سر ویوین رچرڈز پاکستان سپر لیگ کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں اور انھیں توقع ہے کہ پاکستان کا نوجوان ٹیلنٹ اس لیگ سے ابھر کر سامنے آئے گا۔

’یہ پاکستان کی پہلی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے جس سے ان کھلاڑیوں کو زیادہ فائدہ ہوگا جنھیں انٹرنیشنل کرکٹ کا ابھی تک موقع نہیں مل سکا ہے۔ مجھے متعدد باصلاحیت کرکٹرز نظر آئے ہیں۔ محمد نواز ان میں سے ایک ہیں جن میں سیکھنے کی جستجو ہے۔ میں سرفراز احمد سے بھی بہت متاثر ہوا ہوں۔‘

اسی بارے میں