ورلڈ ٹی20 کے انتظامات میں’تاخیر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی کو ابھی تک چار میچوں کے اجازت نامے نہیں ملے ہیں

بھارت میں ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کے انعقاد میں ایک ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے لیکن انتظامات مکمل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے ابھی تک آٹھ مارچ سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے حتمی سٹیڈیموں کا اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی ٹکٹیں جاری کی گئی ہیں۔

ورلڈ ٹی20، پاکستان کے میچ کہاں ہوں گے؟

نئی دہلی کو ابھی تک میچوں کی انعقاد سے متعلق کلیئرنس نہیں مل سکی اور ویسٹ انڈیز کی ٹورنمنٹ میں شرکت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ غیر ملکی شائقین کرکٹ کو مسائل کا سامنا ہے جنھوں نے ہوائی جہازوں کے ٹکٹ بک کرانے ہیں اور انھیں ویزے کی ضرورت ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ کسی بھی انتطامی مسئلے کو حل کر دیا جائے گا اور اس میں فکرمند ہونے کی کوئی بات نہیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے اپف پی کو بتایا ’ہر چیز کو بہت جلد ہی حل کر لیا جائے گا۔ ‘

تاہم نیوزی لینڈ کے شائقین کرکٹ کے کلب بیج بریگیڈ کے شریک بانی پال فورڈ کا کہنا ہے ’اب متعدد شائقین کرکٹ کے لیے بہت تاخیر ہو چکی ہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت نیوزی لینڈ کی ٹیم بہت اچھی ہے اور ہم بھارت کا سفر کرنا پسند کریں گے لیکن میچوں کے انعقاد کے مقامات اور ٹکٹوں میں تاخیر کی وجہ سے شائقین کے لیے سفری انتظامات کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

2016 میں منعقد ہونے والے دیگر عالمی مقابلوں میں ریو اولمپکس اگست میں منعقد ہونے ہیں لیکن اس کے ٹکٹ ایک ماہ پہلے فروخت کے لیے پیش کر دیے گئے تھے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جنرل نے گذشتہ جمعے کو بتایا تھا کہ رواں ہفتے کے آغاز پر ٹکٹ فروخت کر دیے جائیں گے تاہم ایسا نہیں ہو سکا اور اب منتظمین نے آئندہ پیر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹکٹوں کی فروخت شروع نہ ہونے سے شائقین کرکٹ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں

سٹیڈیموں کے انتخاب کے مسئلے کو اس طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ دہلی کے کوٹلہ فیروز شاہ سٹیڈیم میں سیمی فائنل سمیت چار میچوں کے انعقاد کے درکار تمام اجازت نامے نہیں مل سکیں گے۔

پیر کو دہلی ہائی کورٹ نے میچوں کے انعقاد کی اجازت کا عندیہ دیا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ حتمی فیصلے میں تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔

دہلی کی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر چیتن چوہان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ 20 دنوں کا وقت دیا گیا ہے لیکن ہم چیزوں کو دس دن میں ٹھیک کر دیں گے۔

’ہم نے پہلے ہی بی سی سی آئی کو بتا دیا ہے کہ وہ ٹکٹوں کی فروخت شروع کر دے اور ہم میچوں کے انعقاد کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں اور ہمارے پاس تمام درکار اجازت نامے ہیں۔‘

تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ نے نئے سٹیڈیموں کا نام بتائے بغیر کہا ہے کہ انھوں نے پلان بی یا متبادل منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ لیکن شائقین کے ذہنوں میں وہ تلخ یادیں بھی ہیں جب 2011 کے عالمی کپ میں اس وقت کولکتہ سے میچ کی میزبانی کا حق واپس لے لیا گیا جب انگلینڈ سے شائقین نے اپنی ٹکٹیں خرید لی تھیں۔

کھیلوں سے متعلق لکھنے والے سینیئر مصنف ایاز میمن کے مطابق دہلی میں میچوں کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی کیفیت ذہنی کوفت کا سبب بن رہی ہے۔

اگر دہلی میں عالمی کپ کے میچ منعقد نہیں ہوتے تو یہ بی سی سی آئی کے لیے بڑا دھچکہ ہو گا اور بھارت میں کرکٹ کی انتظامیہ کی ناکامی ہو گی اور یہ ناقابل قبول ہو گا۔

ایک دوسرا مسئلہ ویسٹ انڈیز کی شرکت کے بارے میں ہے جہاں کھلاڑیوں کو کرکٹ بورڈ سے معاہدے کے لیے دی گئی 14 فروری کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے لیکن اس تاریخ تک مسئلے کے حل ہونے کے امکانات معدوم دکھائی دے رہے ہیں۔

اگرچہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے انکار کا امکان نہیں ہے تاہم اس صورت میں ٹیم کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اگر اس میں بڑے نام جیسا کہ کرس گیل اس میں شامل نہ ہوں اور ان کی جگہ پر غیر معروف ناموں کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ 2009 میں ورلڈ ٹی20 کے فاتح پاکستان نے بھی بھارت میں سکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

دونوں ملکوں نے تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے تین سال سے دو طرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی ہے لیکن اب دونوں کا 19 مارچ کو ورلڈ کپ کے میچ میں آمنا سامنا ہو گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کے مطابق بھارت آنے کے بارے میں فیصلہ پاکستان نے خود ہی کرنا ہے۔

ایاز میمن کے مطابق تمام الزمات بھارتی کرکٹ بورڈ کو دینا غیر منصفانہ ہو گا کیونکہ یہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا ٹورنامنٹ ہے۔

موقف کے لیے آئی سی سی سے رابطہ کرنے پر کوئی دستیاب نہیں تھا۔

اسی بارے میں