افغان بچے کو میسی کی اصل شرٹ مل گئی

افغانستان کے ایک لڑکے کو آن لائن پر لفافے کی بنی ہوئی ارجنٹائن کے فٹبالر لیونل میسی کی مشہور نمبر 10 شرٹ پہننے کے بعد بالاآخر میسی کی اصل شرٹ ملی ہی گئی۔

افغانستان کے مرتضیٰ احمدی کو یہ شرٹ لیونل میسی نے خود بھیجی ہے۔

بی بی سی ٹرینڈنگ نے پانچ سالہ مرتضیٰ احمدی جسے ’میسی کا سب سے بڑا مداح‘ بھی کہا جاتا ہے کو ڈھونڈنے میں مدد کی۔

مرتضیٰ احمدی کا تعلق افغانستان کے صوبے غزنی کے مشرقی ضلع جگہوری سے ہے۔

ارجنٹائن کے معروف فٹبالر میسی کی مینیجمنٹ ٹیم نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میسی نے سائن کی ہوئی شرٹ مرتضیٰ احمدی کو بھیجی ہے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے مرتضیٰ احمدی کا اس بارے میں کہنا ہے ’میں میسی کو پیار کرتا ہوں اور میری شرٹ کہتی ہے کہ میسی مجھ سے پیار کرتے ہیں۔‘

مرتضیٰ احمدی کو آن لائن کے ذریعے ڈھونڈنے کی کوشش اس وقت وائرل ہو گئی جب انھوں نے پلاسٹک کی بنی نیلے رنگ کی میسی کی شرٹ نمبر 10 پہنی تھی۔

اس شرٹ کو پہننے والے لڑکے کے بارے میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ ایک عراقی کرد ہیں اور جب انٹرنیٹ پر ان کی تصویر وائرل ہوئی تو لیونل میسی نے انھیں ڈھونڈنے اور اپنے نوجوان مداح کو اپنی اصلی شرٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

مرتضیٰ احمدی کو آسٹریلیا میں مقیم ان کے چچا عظیم احمدی نے پہچانا جس کے بعد بی بی سی ٹرینڈنگ نے مرتضیٰ احمدی کے بھائی عارف سے رابطہ کیا۔

غزنی کے رہائشی مرتضیٰ احمدی کے والد ایک کسان ہیں اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ میسی کی شرٹ پہن کر دنیا کی توجہ حاصل کرنے والے ان کے بیٹے مرتضیٰ احمدی ہیں۔

مرتضیٰ کے والد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میسی کی اصل شرٹ حاصل کرنے کے بعد ان کے بیٹے ’بہت زیادہ خوش ہیں۔‘

خیال رہے کہ لیونل میسی اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے اطفال کے ایمرجنسی فنڈ کے خیر سگالی وزیر ہیں اور اس ادارے نے فیس بک کے صفحے پر مرتضیٰ احمدی کی شرٹ پوسٹ کی تھی۔