ٹی 20 مقابلوں میں بھارت کا پلڑا بھاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹی 20 کرکٹ میں پاکستان اور بھارت پہلی بار تقریباً ساڑھے آٹھ برس قبل آمنے سامنے آئی تھیں

بنگلہ دیش میں جاری ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ سنیچر کو دنیائے کرکٹ کی دو بڑی طاقتوں اور روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔

ایک روزہ میچوں کے برخلاف کرکٹ کے مختصر ترین فارمیٹ میں باہمی مقابلوں میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا پلڑا بہت بھاری ہے۔

اس سے قبل یہ دونوں ملک چھ ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں مدِمقابل آ چکے ہیں جن میں سے پانچ بار فتح نے بھارت کے قدم چومے جبکہ صرف ایک مرتبہ بازی پاکستان کے ہاتھ رہی۔

ٹی 20 کرکٹ میں پاکستان اور بھارت پہلی بار تقریباً ساڑھے آٹھ برس قبل آمنے سامنے آئی تھیں۔ یہ میدان جنوبی افریقہ کا اور مقابلہ پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ میچ میں تھا۔

روایتی حریفوں کے مابین مقابلوں سے جس سنسنی خیزی کی توقع کی جاتی ہے یہ میچ اس توقع پر پورا اترا اور ٹائی ہونے کے بعد فیصلہ اس وقت کے قوانین کے مطابق ’بال آؤٹ‘ پر ہوا جس میں بھارت نے فتح حاصل کی۔

2007 کے اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت مدِمقابل آئے اور مصباح الحق کی ایک غلط شاٹ کے باعث فتح پاکستان کی جھولی سے بھارت کے دامن میں جا گری۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 2007 کے ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ کے فائنل میں مصباح الحق کی ایک غلط شاٹ کے باعث فتح پاکستان کی جھولی سے بھارت کے دامن میں جا گری تھی

اس مقابلے کے پانچ برس بعد 2012 میں جب پاکستانی ٹیم بھارت کے دورے پر گئی تو تین ٹی 20 میچ اس شیڈول میں شامل تھے۔

یہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلی جانے والی پہلے ٹی 20 سیریز تھی جس کے پہلے میچ میں مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے 8 وکٹوں سے کامیابی سمیٹ کر پاکستان کے خلاف ٹی 20 انٹرنیشنلز میں فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔

دوسرے میچ میں 25 دسمبر 2012 کو بنگلور کے میدان میں محمد حفیظ کی قیادت مٰیں پاکستانی ٹیم نے پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور 20 اوورز کی کرکٹ میں بھارت کے خلاف پہلی بار کامیابی کا مزا چکھا۔ یہ تاحال ٹی 20 مقابلوں میں پاکستان کی بھارت پر واحد فتح ہے۔

اس شکست کے دو دن بعد احمد آباد کے میدان میں بھارتی سورما ایک بار پھر پاکستانی شاہینوں پر حاوی رہے اور نہ صرف 11 رنز سے میچ جیتا بلکہ سیریز بھی دو ایک سے بھارت کے نام رہی۔

اس کے بعد پاکستان اور بھارت کا آمنا سامنا مارچ 2014 میں بنگلہ دیش ہی میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی 20 کے دوران ہوا جہاں بھارتی ٹیم نے پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر پانچویں کامیابی 130 رنز کا آسان ہدف صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر کے حاصل کی تھی۔

یوں ڈھاکہ میں سنیچر کو کھیلا جانے والا ایشیا کپ کا میچ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں بنگلہ دیش کی سرزمین پر ٹی 20 میچ میں مدِمقابل ہیں۔

رواں ایشیا کپ کی اہمیت اس حوالے سے مزید بڑھ گئی ہے کہ اس فوری بعد مارچ میں ہی بھارت میں چھٹے ورلڈ ٹی 20 مقابلے منعقد ہو رہے ہیں۔

ایشیائی ٹیموں کو میگا ایونٹ کے لیے پریکٹس فراہم کرنے کی خاطر ایشین کرکٹ کونسل نے ایشیا کپ کی تاریخ میں پہلی بار اس کا فارمیٹ بدل کر ٹی 20 طرز کا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مارچ 2014 میں بنگلہ دیش میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں بھارتی ٹیم نے پاکستان کے خلاف 130 رنز کا آسان ہدف صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا تھا

بنگلہ دیش ہی میں کھیلے جانے والے گذشتہ ایشیا کپ کا فارمیٹ ایک روزہ میچوں پر مبنی تھا جس کے دوران آل راؤنڈر شاہد آفریدی کی شاندار کارکردگی کے باعث پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی اور وہی رواں برس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔

ان کے علاوہ سپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ برس کی سزا کاٹنے کے بعد پاکستانی ٹیم میں شامل ہونے والے لیفٹ آرم فاسٹ بالر محمد عامر بھی سب کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔

روایتی حریفوں کے مابین کھیلے جانے والے ہائی وولٹیج مقابلوں اور دونوں ممالک کی عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ اس بار بھی جہاں 22 کھلاڑی بنگلہ دیش کے میرپور سٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گے وہیں سرحد کے دونوں طرف کروڑوں شائقین بھی ٹیلی ویژن سیٹس کے سامنے جمے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان کی بڑے ٹی 20 ٹورنامنٹس میں بھارت کے ہاتھوں شکست کھانے کی روایت برقرار رہتی ہے یا پھر اس بار کچھ الگ دیکھنے کو ملتا ہے۔

اسی بارے میں