پی ایس ایل کے شیر ایشیا کپ میں ڈھیر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹورنامنٹ کے اہم مقابلے میں میچ کا آغازبالکل ویسے ہی ہوا جیسےبھارت چاہتا تھا

ایشیا کپ میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کا مقابلہ۔گرین شرٹس نے بڑے ٹورنامنٹس میں بھارت سے ہارنے کی روایت برقرار رکھی۔ بڑے ناموں سے سجی پاکستانی بیٹنگ لائن بھارتی بالرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ 11 کھلاڑی مل کر بھی سنچری سکور نہ کرسکے۔

پاکستان کے پاس خواہ دنیا کا بہترین باولنگ اٹیک کیوں نہ ہو جو مجموعہ پاکستانی بلے بازوں نے سکور بورڈ پر سجایا تھا اس کا دفاع کرنا کسی بھی باولنگ اٹیک کے بس کا کام نہیں تھا۔ پریشر گیم میں پاکستانی ٹیم کو آغاز سے ہی دباؤ کا سامنا رہا۔

پاور پلے میں بھارتی پیسرز کی گھومتی ہوئی گیندوں کو کھیلنے میں پاکستانی بیٹسمین بری طرح ناکام رہے۔ فلیٹ وکٹوں پر رنز کے ڈھیر لگانے والے پاکستانی بیٹسمین بھارتی سوئنگ بالرز کے سامنے لڑکھڑاتے رہے۔

ٹورنامنٹ کے اہم مقابلے میں میچ کا آغاز بالکل ویسے ہی ہوا جیسےبھارت چاہتا تھا۔ اشیش نہرا نے پہلے ہی اوور میں سابق کپتان محمد حفیظ کو چلتا کیا تو دوسری جانب سے بھمرا نے شرجیل خان سے نجات حاصل کی۔

خرم منظور شعیب ملک کی کال پر رن لینے نکلے تو سہی لیکن واپس کریز میں پہنچنا نصیب نہ ہوا۔ پانڈیا کی گیند پر کپتان دھونی نے شعیب ملک کا کیچ تھاما تو عمر اکمل یووراج سنگھ اور وہاب ریاض روندرا جدیجا کی گیند وکٹوں کے سامنے پیڈز پر کھا کر میدان بدر ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی بالرز اس دباؤ کو برقرار نہ رکھ سکے جو عامر نے 3 اہم وکٹیں حاصل کرکے قائم کیا تھا

کپتان شاہد آفریدی اپنی ہی غلط کال کے باعث رن آؤٹ ہوئے۔ نائب کپتان سرفراز نے کچھ مزاحمت کی لیکن جدیجا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ محمد سمیع بھی پانڈیا کی گیند پر سریش رائنا کو کیچ پکڑا کر چلتے بنے۔ اگلی ہی گیند پر پانڈیا نے محمد عامر کو کلین بولڈ کرکے محض 83 کے سکور پر پاکستانی ٹیم کا کام تمام کردیا۔

اہم مقابلے میں بھارتی کھلاڑیوں کی باؤلنگ اور گراؤنڈ فیلڈنگ مثالی رہی۔ تیز گیند بازوں نے جہاں موافق کنڈیشنز کا بھرپور استعمال کیا وہیں سپن باؤلرز کی لائن اور لینتھ پاکستانی بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی رہی۔ بھارتی کھلاڑیوں کی نشانہ بازی بھی کمال کی رہی اور انھوں نے بھی اپنے باولرز کا بھرپور ساتھ دیا۔

83 کے آسان ہدف کا حصول بھارت کے لیے کچھ خاص مشکل ثابت نہ ہوا۔ ابتدا میں محمد عامر کے 3 خطرناک وار جھیلنے کے بعد بھارتی بلے باز محتاط انداز میں کھیلتے رہے۔ عامر کے علاوہ دیگر پاکستانی بالرز بھی اس دباؤ کو برقرار نہ رکھ سکے جو عامر نے 3 اہم وکٹیں حاصل کرکے قائم کیا تھا۔

روہت شرما، ریحانے اور رائنا کے جانے کے بعد ویرات کوہلی اور یوراج سنگھ نے اطمینان سے کھیلتے ہوئے بھارت کو ہدف کے نزدیک پہنچایا اور آخری لمحات میں محمد سمیع کو ملنے والی ویرات کوہلی اور پانڈیا کی وکٹیں بھی میچ کا نتیجہ تبدیل نہ کرسکیں۔

پاکستان نے ٹورنامنٹ کا مایوس کن آغاز جہاں کھیل کے ہر شعبے میں کیا وہیں رہی سہی کسر بلے بازوں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان نے پوری کردی۔

بھارت کے خلاف ناکامی نے کھلاڑیوں کا اعتماد تو یقیناً متزلزل کیا لیکن ابھی سری لنکا، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات سے مقابلے باقی ہیں جن میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے آئندہ ماہ کے ورلڈ ٹی20 کی بہتر تیاری کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں