دھرم شالہ میں پاکستان اور بھارت کے میچ پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کے دوران تماشائیوں کا جوش بہت زیادہ ہوتا ہے

بھارت اور پاکستان کے درمیان 19 مارچ کو ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں ہونے والا عالمی کپ کا میچ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے کیونکہ خود ریاستی حکومت اس کی مخالفت کر رہی ہے۔

تاہم بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے عندیہ دیا ہے کہ میچ حسب پروگرام ہی ہوں گے۔

بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ميچ پر سیاست کرنے والے ریاست اور ملک دونوں کو بدنام کررہے ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں آباد سابق فوجی میچ کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر شدت پسندوں کے حملے میں مارے جانے والے دو فوجیوں کا تعلق اسی علاقے سے تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’علاقے میں بہت ناراضگی ہے اور ہمارے لیے سکیورٹی فراہم کرنا بہت مشکل ہوگا۔۔۔اس علاقے میں رہنے والے فوجیوں کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کا میچ یہاں نہ ہو۔‘

ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت ہے اور پارٹی کے ایک سینیئر وزیر جی ایس بالی بھی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر دھرم شالہ سے میچ نہیں ہٹایا گیا تو وہ اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچز کئی بار التوا کا شکار ہو چکے ہیں

یہ مطالبہ سب سے پہلے بی جے پی کے سینیئر رہنما اور ریاست کے سابق وزیر اعلی شانتا کمار نے کیا تھا۔

وزیر اعلی کا کہنا ہےکہ ’اس میچ سے بدمزگی پیدا ہوگی اور بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوسکتے ہیں، جو ایک مرتبہ شروع ہوجائیں تو انھیں روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔۔۔ذاتی طور پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

وزیر اعلی نے وفاقی وزارت داخلہ کو بھی ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ ان کے لیے سکیورٹی فراہم کرنا مشکل ہوگا۔ امن و قانون کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہی ہوتی ہے لیکن وزارت داخلہ نے اس خط کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے جنرل سیکریٹری اور بی جے پی کے رکن پارلیمان انوراگ ٹھاکر کا تعلق بھی ہماچل پردیش سے ہی ہے۔ بی سی سی آئی نے ابھی اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔

انوراگ ٹھاکر نے منگل کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ میچوں کا شیڈول ایک سال پہلے بنایا گیا تھا اور میچ کہاں کہاں ہوں گے یہ فیصلہ بھی کئی مہینے پہلے کیا گیا تھا۔ کرکٹ کے چاہنے والوں، سیاحوں اور منتظمین نے اسی شیڈیول کے مطابق اپنے انتظامات کیے ہیں۔

Image caption انوراگ ٹھاکر نے اپنے ٹویٹ سے عندیہ دیا ہے کہ ميچ کر پروگرام میں تبدیلی نہیں ہوگی

ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ کرکٹ کے نام پر سیاست کر رہے ہیں ’وہ اپنی خامیاں اور نا اہلی دکھا رہے ہیں اور وہ ہماچل پردیش اور ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔‘

بی جے پی کے رکن پارلیمان انوراگ ٹھاکر نے عندیہ دیا ہےکہ میچ وہاں سے نہیں ہٹائے جائیں گے اور حسب پروگرام ہی ہوں گے۔

اگر بی سی سی آئی دھرم شالہ سے میچ ہٹانے پر تیار نہیں ہوتی تو وزیر اعلی کا کہنا ہےکہ ’ایسی صورت میں ہم جو کرسکتے ہیں کریں گے، ہم اپنی ذمہ داری میں کوتاہی نہیں برتیں گے لیکن میں نہیں چاہتا کہ امن و قانون کی صورتحال بگڑے۔۔۔لیکن کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا خطرہ مول لیں گے؟

’ہم ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے جس میں ہمیں اپنے ہی سابق فوجیوں پر لاٹھی چارج کرنا پڑے۔‘

ریاست کے سابق فوجیوں کی تنظیم کے سربراہ وجے سنگھ منکوٹیا نے کہا ہے کہ ’ریاست کے لوگ ابھی اپنے شہیدوں کا سوگ منا رہے ہیں اور ایسے میں میچ کے دوران جب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جائیں گے تو انھیں گراں گزریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سابق فوجیوں کی تنظیم کے سربراہ وجے سنگھ منکوٹیا نے کہا ہے کہ پاکستانی مداح کے نعروں سے جذبات مجروح ہوں گے

جی ایس بالی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان سے بھی لوگ میچ دیکھنے آئیں گے۔۔۔ وزیر اعلی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لیتے، وہ اپنی ضمانت پر میچ کرائیں۔۔۔لوگوں کے جذبات کو دیکھتے ہوئے مجھے نہیں لگتا کہ یہ میچ اب دھرم شالہ میں ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہم اپنے بچوں کے ساتھ ہیں، ہم میچ کے ساتھ نہیں ہیں، ہمیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جو لوگ ہمارے بچوں کو مار رہے ہیں، ان کے ساتھ رہیں یا اپنے بچوں کے؟‘

یہ غیر معمولی صورتحال ہے کیونکہ یہ شاید پہلی مرتبہ ہے کہ کانگریس کی کوئی ریاستی حکومت بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کی مخالفت کر رہی ہے۔

بظاہر یہ فیصلہ آئی سی سی سے صلاح مشورے کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو کرنا ہوگا، لیکن حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کی جانب سے ہی کیا جائے۔

اسی بارے میں