’ٹاپ آرڈر بیٹنگ نے ایک بار پھر رنز نہیں کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ اگلے دونوں میچز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں

ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف اپنے سب سے کم ٹی ٹوئنٹی سکور پر آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ متحدہ عرب امارات کے خلاف بھی لڑکھڑائی جس پر کوچ وقاریونس پریشان ہیں لیکن انھیں یہ اطمینان ضرور ہے کہ ٹیم نے بالآخر کھاتہ کھول لیا۔

پاکستان کی جیت لیکن ٹاپ آررڈ بیٹنگ پھر ناکام

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے میچ کے بعد جب وقار یونس سے پوچھا کہ امارات سے جیتنے پر آپ نے یقیناً سُکھ کا سانس لیا ہوگا جس پر ان کا جواب تھا ’سکھ کا سانس میں ہمیشہ لیتا ہوں۔ایسا نہیں ہے کہ سکھ کاسانس نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ نے ایک بار پھر رنز نہیں کیے۔کنڈیشنز ایسی ہیں کہ نئی گیند پر بیٹنگ مشکل ہے لیکن متحدہ عرب امارات کی ٹیم کی تعریف کرنی ہوگی جس نے سخت محنت کی۔‘

وقاریونس کا کہنا ہے کہ اگلے دونوں میچز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہمارے لیے بنگلا دیش اور سری لنکا کے خلاف دونوں میچز اہم ہیں۔ ابھی ہم نے فیصلہ نہیں کیا ہے کہ ٹیم میں کیا تبدیلی کی جائے گی لیکن فی الحال خوشی اس بات کی ہے کہ ٹیم نے کھاتہ کھول لیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption وقاریونس فاسٹ بولر محمد عامر کی موجودہ کارکردگی سے بہت خوش ہیں

شعیب ملک اور عمراکمل نے امارات کے خلاف جس انداز سے بیٹنگ کی اس سے وقاریونس کو خوشی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا ’دونوں کی بیٹنگ میں پختگی نظر آئی۔ انھوں نے جلد گرنے والی وکٹوں کے بعد دباؤ کو برداشت کیا اور ذمہ داری سے بیٹنگ کی حالانکہ رن ریٹ بڑھتا چلا گیا تھا لیکن ہمیں پتہ تھا کہ یہ دونوں بیٹسمین صورتحال کو اپنے حق میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

کیا پاکستانی ٹیم اب بھی اس ٹورنامنٹ کی فیورٹ ہے ؟

اس سوال پر وقاریونس کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم اب بھی اس ٹورنامنٹ میں ایک قوت کے طور پر موجود ہے لیکن اس کے لیے اسے اگلے دونوں میچوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی دباؤ کے بغیر کھیلنے والی کرکٹ ہے اور انھیں نہیں معلوم کہ پاکستانی کرکٹرز کو کس بات کا خوف ہے۔

وقاریونس فاسٹ بولر محمد عامر کی موجودہ کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔

انھوں نے کہا ’محمد عامر نے امارات کے خلاف 24 گیندیں کیں جن میں سے 21 پر کوئی رن نہیں بنا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی عمدہ بولنگ کررہے ہیں تاہم ہمیں اننگز کے درمیانے اوورز میں رنز کی رفتار کو روکنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں