ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تحقیقاتی ٹیم میں یونس خان اور مصباح الحق دونوں شامل ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی وجوہات جاننے کے لیے ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

ادھر وزیر اعظم پاکستان نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے قومی ٹیم کی اس ٹورنامنٹ میں خراب کارکردگی پر رپورٹ طلب کی ہے۔

شکیل شیخ کی سربراہی میں جمعے کو قائم کی جانے والی اس کمیٹی میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق، سنہ دو ہزار نو میں ورلڈ ٹی 20 جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان، سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم اور سبحان احمد شامل ہیں۔

یہ کمیٹی بنگلہ دیش میں جاری ایشیا کپ ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور کے مطابق کمیٹی کے قیام کا اعلان تو کیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کب تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ایشیا کپ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے انتہائی خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

بھارت کے خلاف میچ میں جہاں پاکستانی ٹیم صرف 83 رنز بنا سکی تھیوہیں متحدہ عرب امارات کے خلاف بھی اس کا ٹاپ آرڈر ناکام رہا تھا۔

بنگلہ دیش کے خلاف ٹورنامنٹ میں اپنی بقا کے لیے لڑنے والی ٹیم ایک مرتبہ پھر ابتدائی بلے بازوں کی ناکامی کی وجہ سے 129 رنز پر پویلین لوٹ گئی تھی اور اسے پانچ وکٹوں سے نہ صرف شکست ہوئی بلکہ وہ ٹورنامنٹ سے ہی باہر ہوگئی۔

اس کارکردگی کے بعد ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے لیے اعلان کردہ سکواڈ اور منیجمنٹ میں تبدیلیوں کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا تھا۔

اس پر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے جمعرات کو کہا تھا کہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے سکواڈ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

تاہم انھوں نے فوری طور پر شاہد آفریدی کو ٹیم کی کپتانی سے ہٹائے جانے اور سلیکشن کمیٹی کی تحلیل کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں