کیا بھارت ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ جیت سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یہ بہت مختصر سا سوال ہے کہ کیا بھارت ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ جیت سکتا ہے؟ جس کا جواب اس سے بھی مختصر ہے اور وہ ہے ’ہاں۔‘

یہ خیال اپنی جگہ لیکن اس کھیل کا فارمیٹ ایسا ہے کہ آپ سوال میں بھارت کی جگہ پاکستان، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کا نام بھی لکھ دیں تو بھی جواب ’ہاں‘ میں ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ٹی 20 ٹورنامنٹ کے پہلے پانچ مقابلوں میں مختلف فاتح سامنے آ ئے۔ کھیل جتنا چھوٹا ہو تا ہے، اس میں جیتنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

لیکن یہ بات بہت حیران کن ہو گی کہ کرکٹ کھلینے والی سب سے جذباتی قوم بنگلہ دیش اس ٹورنامنٹ کی فاتح بن جائے۔

چھوٹی ٹیموں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ بڑی ٹیموں کو ہرا نہیں سکتیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس کھیل میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔

اس کی مثال یوں ہے کہ اگر بنگلہ دیش کی ٹیم گروپ اے میں آگے آ بھی جاتی ہے تو سپر 10 میں سے آگے جانے اسے آسٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ اور پاکستان جیسی ٹیموں سے مقابلہ کرنا ہو گا۔

اس گروپ میں سے صرف دو ٹیمیں ہی سیمی فائنل تک پہنچیں گی اس لیے بنگلہ دیش کو دو میچ جیتنے کے علاوہ دیگر ٹیموں کی کارکردگی پر بھی انحصار کرنا ہو گا۔

گروپ کی باقی آٹھ ٹیمیں یا تو ٹی 20 ورلڈ کپ جیت چکی ہیں یا پھر فائنل کھیل چکی ہیں۔ ان حالات میں ان ٹیموں سے مقابلہ اتنا آسان نہ ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کہا جا رہا ہے کہ بھارت کو اپنے ملک میں کھیلنے کا بڑا فائدہ حاصل ہے، حالانکہ یہ دلیل 1987 اور 1996 میں میں 50 اووروں کے ورلڈ کپ میں کام نہیں آئی جب بھارت اپنے ہی ملک میں کھیلنے کے باوجود فتح حاصل نہیں کر سکا تھا، بلکہ ہوم گراونڈ کی وجہ سے الٹا دباؤ کا شکار رہا۔

بہرحال 2011 میں یہ بندش ٹوٹ گئی اور بھارت اپنے ہی ملک میں فاتح قرار پایا۔

اگر بھارت کو ورلڈ ٹی 20 جیتنا ہے تو انھیں ایک اور بندش توڑنا ہو گی۔ ابھی تک کوئی بھی میزبان ملک یہ ٹائٹل نہیں جیت سکا۔

ابھی تک بھارت کو ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی اول نمبر کی ٹیم ہے جس میں ابھی تک کوئی قابل ذکر کمزوری بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

بھارت ایک متوازن ٹیم ہے۔ ان کی واحد پریشانی مڈل آرڈر پر کھیلنے والے یوراج سنگھ تھے جو اب وقت کے ساتھ واپس اپنی فارم میں آگئے ہیں۔

البتہ ٹاپ آرڈر پر کھیلنے والے شیکھر دھون کو اپنے کھیل میں بہتری لانے کی ضرورت ہے لیکن ان کے پارٹنر روہت شرما زبردست کھیل پیش کر رہے ہیں جن کے کھیل کی مہارت سے ابھی تک وراٹ کوہلی ہی آگے جا سکے ہیں۔

کوہلی نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف 49 رنز بنائے، جبکہ بھارت کو جیتنے کے لیے صرف 84 رنز درکار تھے۔

ان کے کھیل سے اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ ٹی 20 جیسے فارمیٹ میں بھی اندھا دھند بلا گھمائے بغیر روایتی طریقے سے کھیلتے ہوئے رن بنائے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

وراٹ کوہلی کے علاوہ بھارت کی ٹیم میں سریش رائنا بھی شامل ہیں جن کا شمار دنیا کے پانچ بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔

جسپریت بمرا کی دریافت اور اشیش نہرا کی واپسی کے بعد بھارت کی بولنگ لائن بھی شروع کی وکٹیں گرانے اور رن روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بمرا نے یارکر کا فن بولنگ کی اس صنف کے ماہر سری لنکا کے لاستھ ملنگا سے سیکھا ہے جو آئی پی ایل مقابلوں میں ممبئی انڈیئنز کی ٹیم میں ان کے ساتھ تھے۔ بمرا اس وقت پر اعتماد اور جارحانہ کھیل پیش کر رہے ہیں۔

محمد شامی بھی اس فارمیٹ میں کھیلنے والے بہترین بولروں میں شمار ہوتے ہیں۔

بھارت کے کپتان مہندرا سنگھ دھونی کو صرف ایک ہی مشکل کا سامنا ہو گا کہ وہ ان بہترین کھلاڑیوں میں سے کس کا انتخاب کریں۔

ہردیک پانڈیا نے ایسے میڈیم پیس بالر کی تلاش کا مسئلہ حل کر دیا ہے جو بیٹنگ بھی کر سکے اور وہ یقیناً ٹیم کے لیے بونس ثابت ہوں گے۔

بھارت کے اہم بولر سپنر روی اشوان اور رویندرا جڈیجا ہی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY

بھارت کی ٹیم اس وقت بہترین توازن میں ہے اور اسے اس ٹیم سے بھی بہتر کہا جا رہا ہے جو 2007 میں شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ کی پہلی فاتح قرار پائی تھی۔

اس وقت بھارت کے جیتنے کی توقعات بہت کم تھیں کیونکہ مقابلوں سے قبل انھوں نے اس فارمیٹ پر شدید تنقید کی تھی اور کھیل کے خلاف ناگواری ظاہر کی تھی۔

لیکن اس جیت نے جدید کرکٹ کا نقشہ بدل دیا، جس نے بھارت میں (آئی پی ایل) اور دنیا کے دیگر ممالک میں لیگ کرکٹ کو جنم دیا، اور جس میں بے تحاشہ پیسہ لگا کر اس فارمیٹ کو کمال تک پہنچا دیا۔

سنہ2011 میں بھارت کی ٹیم نے ورلڈ کپ سے قبل کہا تھا کہ ’وہ یہ کپ سچن کے لیے جیتنا چاہتے ہیں۔‘ وہ سچن تیندلکر کا آخری ورلڈ کپ تھا۔

اگر بھارتی کھلاڑی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس مرتبہ انھیں دھونی کے لیے جیتنا چاہیے تو کوئی حیرت نہیں ہو گی اگر وہ ٹورنامنٹ جیت بھی جائیں۔

اسی بارے میں