یہ وقت جذبے کے ساتھ کھیلنے کا ہے: وقار یونس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان اور کوچ کے درمیان اختلافات کو وقار یونس نے افواہیں قرار دیا

آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کے لیے بھارت جانے والی پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ٹورنامنٹ میں بہتر کھیل پیش کرنے کے لیے تمام کھلاڑی پرعزم ہیں۔

پاکستان کی وزاتِ داخلہ کی جانب سے جمعے کی شام جاری کیے گئے بیان میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ورلڈ ٹی20 میں حصہ لینے کے لیے بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم بھارت میں بہتر سے بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ٹیم نے حال ہی میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ ٹی20 ٹورنامنٹ میں اچھا کھیل پیش نہیں کیا لیکن اب اپنے آپ کو اٹھانا پڑے گا اور ہم اس ٹونامنٹ میں بہتر کاردگی دکھائیں گے۔‘

بھارت میں موجودہ حالات کا پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں پر اثرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل 1999 میں بھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو غالباً حالات اس سے بھی زیادہ خراب تھے لیکن پاکستان ٹیم نے اچھا پرفارم کیا تھا۔ تو ہم مثبت سوچ کے ساتھ یہاں سے جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ نتائج بہتر آئیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس نے کہا کہ بہتر کھیل پیش کرنے کے لیے تمام کھلاڑی پرعزم ہیں

’چیئرمین شہریار خان نے بھی کھلاڑیوں سے انفرادی طور پر پوچھا ہے کہ کیا وہ ان حالات میں جانا چاہتے ہیں یا نہیں تو ہر کھلاڑی پرعزم دکھائی دیا اور سب نے بھارت جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں بلے بازوں کے لیے حالات مشکل تھے، تاہم مجھے امید ہے کہ موہالی اور کولکتہ میں کنڈیشنز کافی بہتر ہوں گی۔ صرف ہمارے بلے بازوں کو سکور کرنا پڑے گا کیونکہ ہماری بولنگ پہلے سے ہی کافی بہتر ہے۔‘

پاکستان ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی اور ہیڈ کوچ کے درمیان اختلافات کی خبروں کے بارے میں وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’ایسی خبریں صرف اور صرف افواہیں ہیں اور یہ تو جڑنے کا وقت ہے، اگر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ ایسا کچھ ہے بھی تو وہ اس ٹورنامنٹ میں نہیں نظر آئے گا۔‘

بھارت کے ساتھ میچ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’ہم کولکتہ میں پہلی بار ٹی20 میچ کھیل رہے ہیں بھارت کی ٹیم اچھی ہے لیکن یہ وقت جذبے کے ساتھ کھیلنے کا ہے حب الوطنی باہر نکالنی ہو گی۔‘

اسی بارے میں