’کرکٹ کا جو مزا بھارت میں ہے وہ کہیں اور نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام سے جتنا پیار انھیں اور پاکستانی ٹیم کو ملا وہ ان کے لیے یادگار ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ورلڈ ٹی20 مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بھارت پہنچنے والی پاکستان ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ کرکٹ کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے اور پاکستان اور بھارت کے لوگ اچھی کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔

بھارتی شہر کولکتہ پہنچنے کے بعد اتوار کو پاکستان ٹیم نے ایڈن گارڈن میں پریکٹس کی۔

پریکٹس کے بعد کپتان شاہد آفریدی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ذہنی اور جسمانی طور پر بھارت میں میچ کھیلنے کے لیے تیار تھے۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ ’اب تو میری کرکٹ ختم ہونے والی ہے لیکن کرکٹ کھیلنے کا جتنا مزا بھارت میں آیا ہے اتنا کسی اور ملک میں نہیں آیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں کے لوگوں سے جتنا پیار مجھے اور ٹیم کو ملا وہ میرے لیے یادگار ہے۔‘

آفریدی کے بھارت میں زیادہ پیار ملنے کے بیان کے حوالے سے سماجی رابطوں کی سائٹس پر بھی خوب بحث چل رہی ہے۔

ایک پاکستانی مداح نے اس حوالے سے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’آفریدی نا بیٹنگ کر سکتے ہیں نا باولنگ اور انتہائی ناقص کپتانی کرتے ہیں، اسی وجہ سے بھارتی ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔‘

پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت آپس میں کھیلیں : ’بھارت کے لوگ اپنی ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان ٹیم آئی سی سی ٹورنامنٹ میں بھارت سے کبھی نہیں جیت پائی۔ اس بارے میں سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں اتنی چیزیں مثبت ہیں وہیں یہ بات ذہن میں منفی سوچ لے آتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بڑے ایونٹ کے ہر میچ میں سینیئر کھلاڑیوں کو دباؤ میں اچھی کرکٹ کھیلنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان ٹیم کی بولنگ کے حوالے سے شاہد آفریدی نے کہا کہ ’اپنے بولرز سے میں بہت پر امید ہوں کیونکہ فاسٹ بولرز کے ساتھ ساتھ سپنرز کا کامبینیشن بھی کافی اچھا ہے ہماری ٹیم میں۔‘

خیال رہے کہ پاکستان ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں شرکت کے لیے سنیچر کی شام بھارت کے شہر کولکتہ پہنچی تھی جہاں سینکڑوں شائقین نے ٹیم کا استقبال کیا تھا۔

جوں ہی شاہد آفریدی اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان ہوائی اڈے سے باہر آئے تو وہاں پر پہلے سے جمع سینکڑوں شائقین نے ان کا استقبال کیا، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم کے کپتان نے بھی گرم جوشی کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں