’فارم آنے اور جانے میں منٹ نہیں لگتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شاہد آفریدی کے ایک بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ٹی 20 کپتان شاہد آفریدی کی موجودہ خراب فارم جہاں خود ان کے لیے اور ٹیم کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے وہیں ان کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

شاہد آفریدی بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پریکٹس میں موجود نہیں تھے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ بخار میں مبتلا ہیں۔

میچ سے قبل کپتانوں کی پریس کانفرنس میں شاہد آفریدی کی جگہ کوچ وقار یونس آئے تو ان سے شاہد آفریدی کی خراب فارم اور ’ بھارت سے محبت‘ کے بیان کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ فارم آنے اور جانے میں ایک منٹ نہیں لگتا’شاہد آفریدی کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے ۔ایک اچھی اننگز، ایک اچھا میچ صورتحال بدل دے گا۔‘

انھوں نے شاہد آفریدی کے حالیہ بیان پر کہا کہ انہیں اس بیان میں کوئی متنازع بات نظر نہیں آئی ہے۔’ہمیں اس ٹورنامنٹ پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔‘

وقار یونس کا کہنا ہے کہ ہر ٹیم کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کا حق ہے اور بنگلہ دیش نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران بہت ہی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو بین الاقوامی کرکٹ اور خود بنگلہ دیش کے لیے خوش آئند بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ بڑا ایونٹ ہے اور پاکستانی ٹیم مثبت سوچ کے ساتھ بنگلہ دیش کا مقابلہ کرنے میدان میں اترے گی۔‘

وقار یونس کا یہ بھی کہنا تھا کہ بولنگ پاکستانی ٹیم کی قوت ہے اور وہ تین فاسٹ بولرز کے ساتھ پہلا میچ کھیلے گی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ شاہد آفریدی کا یہ آخری ٹورنامنٹ ہے اور ان کا مستقبل بھی اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر منحصر ہے تو کیا یہ ٹورنامنٹ ’مشن امپوسیبل‘ ہے یا ’مشن پوسیبل‘؟، وقاریونس کا جواب تھا کہ ٹی 20 میں کوئی بھی ٹیم فیورٹ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی جو بھی ٹیم ورلڈ ٹی 20 جیتی ہے وہ فیورٹ نہیں تھی۔

اسی بارے میں