کیا پاکستان انڈیا کرکٹ سے امن بڑھ سکتا ہے؟

Image caption چلیں ہفتے کو ہونے والے کھیل کا مزہ لیتے ہیں

ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیمیں انڈیا کی سرزمین پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان میچ سنیچر کو کولکتہ میں کھیلا جائے گا۔ اِس سے قبل یہ میچ دھرم شالا میں منعقد ہونا تھا لیکن ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کو لگتا تھا کہ انڈیا کے فوجیوں کے اہل خانہ ’دشمن‘ کے ساتھ کھیل کا خیر مقدم نہیں کریں گے۔

دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کرکٹ تعلقات ہمیشہ مشکلات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ محض کھیل دونوں ممالک کو قریب لانے میں مدد کر سکتا ہے، تو اِس کا جواب ہے ’نہیں۔‘

کھیل جذبات پر پڑی برف کو پگھلا تو سکتا ہے لیکن یہ جغرافیائی سیاست کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کرکٹ کے ذریعے سے سفارت کاری تو ہو سکتی ہے لیکن یہ اِس کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

چھ دہائیوں پر مشتمل پاک انڈیا کرکٹ تعلقات نے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کے فروغ کے لیے بہت کم کردار ادا کیا ہے۔

سیاست کا شکار

یہاں کھیل ہمیشہ سے ہی سیاست کا شکار رہا ہے۔ اِس کی مثال دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1960 سے لے کر سنہ 1978 کے 18 سال تک کرکٹ رابطوں میں تعطل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا نے کسی بھی ورلڈکپ میں پاکستان سے شکست نہیں کھائی

اِس کے بعد سنہ 1987 سے سنہ 1999 تک ٹیسٹ سیریز میں وقفہ رہا اور موجودہ تعطل سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد سے برقرار ہے۔

کرکٹ تعلقات کو ’معمول‘ پر لانے کا بنیادی چیلنج تقسیم ہند کی وجہ سے درپیش ہے، جس میں مسلم ریاستیں انڈیا سے الگ ہوگئی تھیں۔

اِسی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ سے بھاری بوجھ برداشت کرنے کی توقع کی جاتی ہے، کیونکہ اِس میں قومی وقار کا مقابلہ اُس بڑے اور طاقتور پڑوسی سے ہوتا ہے جس سے اُنھوں نے علیحدگی اختیار کی تھی۔

پاکستانی کرکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اِس کو فوجی قوم پرستی کے لیے اِستعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب میچ انڈیا کے خلاف ہو۔

ایک مذہبی مشن کی طرح نمایاں انداز میں اِس کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، مثال کے طور پر سنہ 2007 کے ورلڈ ٹی 20 میں اُس وقت کے پاکستانی کپتان شعیب ملک نے ٹیم کی حمایت کرنے پر ’پوری دنیا کے مسلمانوں‘ کا شکریہ ادا کیا تھا۔

اِس کے برعکس انڈیا میں متعدد مذاہب، متعدد نسلیں اور تجارتی بنیادوں پر کرکٹ نمایاں اور اہم ہے۔

یہ وہ دو ممالک ہیں جس کے فوجی تسلسل کے ساتھ ایک دوسرے پر گولیاں برساتے ہیں، جہاں سرحدی کشیدگی جنگ میں بدل جاتی ہے اور جہاں کرکٹ میچ کے نتائج سے کنٹرول لائن پر فوج کو بطورِ جشن فائر کرنے کی ترغیب مل جاتی ہے۔

اِن سب سے بڑھ کر یہ وہ خطہ ہے کہ جہاں پاکستان پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر انڈیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور (پاکستانیوں کی نظر میں) انڈیا میں مسلمانوں کی ’مصیبتوں‘ کے ذمہ داروں کو سبق سکھانے کے لیے یہ ’اخلاقی ذمہ داری‘ ہے کہ اِن کو کرکٹ کے میدان میں دھول چٹائی جائے۔

Image caption انڈیا میں متعدد مذاہب، متعدد نسلیں اور تجارتی بنیادوں پر کرکٹ نمایاں اور اہم ہے

دنیا میں کرکٹ کے ایسے کوئی بھی مخالفین نہیں ہیں، جن کے آپس میں ایسے معاملات ہوں۔

اِس طرح کے پس منظر کے ساتھ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مقابلوں سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ محض کھیل تک محدود رہیں۔ تاریخ دان اور فلسفی سی ایل آر جیمز تاریخی جملہ لکھتے ہیں کہ ’ وہ کرکٹ کے بارے میں کیا جانتے ہیں جو صرف کرکٹ ہی جانتے ہیں۔‘

دونوں ٹیمیں سنہ 1999 کے عالمی کپ میں برطانوی سرزمین پر ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھی، اُس وقت کشمیر میں کارگل کے مقام پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری تھی۔ میچ میں 47 رنز سے انڈیا کی فتح کے ساتھ ہی چھ پاکستانی اور تین انڈیای سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

تعلقات کی بحالی

اور ابھی تک کرکٹ کی صلاحیتوں کے استعمال کے ذریعے سے تعلقات کی بحالی کی دلیل دی جاتی ہے۔

جب انڈیا نے سنہ 2003-4 میں پاکستان کا دورہ کیا تو گذشتہ پانچ دہائیوں کے دوران پہلی بار پاکستان نے ہزاروں ہندوستانیوں کو ’کرکٹ ویزے‘ جاری کیے تھے۔

اور عام پاکستانیوں کی جانب سے ہندوستانی شہریوں کا پُرجوش استقبال کیا گیا تھا۔ اِس دوران لاہور اور کراچی میں انڈین مہمانوں کو مفت سفر، رعایتی کھانے اور خریداری میں رعایت سمیت اُن کی بےحد مہمان نوازی کی گئی تھی۔

لیکن صرف پانچ برس بعد ہی ممبئی میں خوفناک حملے ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک کرکٹ کی صلاحیتوں کے استعمال کے ذریعے سے تعلقات کی بحالی کی دلیل دی جاتی ہے

انڈیا کو چند مہینوں بعد جنوری 2009 میں پاکستان کا دورہ کرنا تھا، جو نہ ہوسکا۔

انڈیا میں اُس وقت کے وزیر کھیل ایم ایس گِل نے حکومتی اجازت ختم کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایسا نہیں کرسکتےکہ ایک ٹیم وہاں سے آ کر ہمارے ملک کے شہریوں کو قتل کرے اور دوسری ٹیم انڈیا سے جا کر وہاں کرکٹ کھیلے۔‘

اِس بعد سے (ورلڈ کپ جیسے عالمی مقابلوں، ایک خیراتی مقابلے اور سنہ 2011 کی واحد ون ڈے سیریز کے علاوہ) دونوں ٹیمی بمشکل ہی ایک دوسرے کے مدمقابل آئی ہیں۔ اور اِس کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے انڈین پریمیئر لیگ کے بعد کے ایڈیشنوں میں بھی حصہ نہیں لیا۔

تو کرکٹ ماضی میں ایک دوسرے سے ظاہری تضاد کے بندھن میں منسلک، اِن دو ممالک کے درمیان امن کو فروغ دینے کے حوالے سے کس حد تک فائدہ مند ہے؟

کئی سالوں سے اب تک جنگ، شدت پسندی، دہشت گردی اور حتیٰ کہ جوہری ہتھیاروں کے خطرات سے متعلق بات چیت ہوتی رہی ہے۔ انڈین سیاست دانوں کی جانب سے ہمیشہ یہ سوال اُٹھائے جاتے رہے ہیں کہ انڈیا ایک ایسے ملک کے ساتھ کرکٹ کیسے کھیل سکتا ہے جو اس کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرتا ہو۔

حکمراں جماعت کے بہت سے ارکانِ پارلیمان اور ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

پراکسی وار

کرکٹ ایک کھیل ہے۔ اور کرکٹ ٹیم بذات خود ملک یا ملک کی علامت نہیں بلکہ صرف ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔ کرکٹ پر کسی دوسری قومی جدوجہد سے زیادہ بڑھ کر بوجھ ڈالنا غیر منصفانہ ہے۔

ابھی تک کرکٹ خصوصی طور پر پاکستان کے خلاف انڈیا کے غصے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔

ہم اُن پر پابندیاں نہیں لگا سکتے، اپنے سفارت کار نہیں بلا سکتے، نہ اُن کے ساتھ تجارت ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی اُن کے فلمی اداکاروں کو انڈیا میں کام کرنے سے روک سکتے ہیں۔

لیکن ایک سرگرمی کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ کرکٹ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک کرکٹ کا کھیل پاکستان کے خلاف انڈیا کے غصے کی قیمت ادا کر رہا ہے

یہ بہت غلط عمل ہے۔

میرا خیال ہے کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ مختلف محاذوں پر تعلقات بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میں عوام کے عوام سے براہ راست تعلقات کی پرزور حمایت کرتا ہوں تاکہ فوج اور مولویوں کے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔

کرکٹ دونوں ممالک کے تعمیری تعلق کو بحال کرنے کا راستہ ہے، جہاں دو لوگ ایک دوسرے کی بدگمانیوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے بارے میں سوچیں۔

کرکٹ پہلے بھی اور اب بھی ایک ایسا ہتھیار بن سکتا ہے، جس کے ذریعے سے پالیسیاں بنانے والے عام عوام کے لیے وسیع تر پیغام بھیج سکیں۔

تو چلیں ہفتے کو ہونے والے کھیل کا مزہ لیتے ہیں۔

انڈیا نے کسی بھی ورلڈکپ میں پاکستان سے شکست نہیں کھائی، اور پاکستان کبھی کولکتہ کے ایڈن گارڈن سٹیڈیم میں انڈیا سے نہیں ہارا۔

یہ میچ یک طرفہ ہوگا یا تاریخ رقم ہوگی اور یا یہ صرف ایسا ہوگا جیسے کہ معمول کی کرکٹ ہوتی ہے۔

اسی بارے میں