’صرف ایک ٹکٹ کا سوال ہے‘

Image caption پاک بھارت میچ میں پانچ سو، ایک ہزار اور ڈیڑھ ہزار بھارتی روپے کے ٹکٹ رکھے گئے ہیں

پاکستان اور بھارت دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر کرکٹ کھیل لیں اس کی مقناطیسی کشش ہر کسی کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔

کولکتہ میں بھی کچھ یہی ماحول ہے۔ ہر شخص ہفتے کے روز خود کو ایڈن گارڈنز میں دیکھنا چاہتا ہے لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لیے ایک عدد میچ ٹکٹ درکار ہے۔

جس نے وہ ٹکٹ حاصل کر لیا ہے وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین شخص تصور کر رہا ہے، لیکن جس کے پاس ٹکٹ نہیں ہے وہ اسے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے اور اس کی زبان پر یہی ایک سوال ہے کیا ایک ٹکٹ مل سکتا ہے؟

کولکتہ جتنا بڑا شہر ہے ایڈن گارڈنز بھی اتنا ہی بڑا گراؤنڈ ہے۔

پہلے کہا جاتا تھا اس میں لاکھ آدمی سما جاتا ہے لیکن اب اس میں 64 ہزار شائقین کی گنجائش ہے، اور کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی جتنی طلب ہے ایسے میں کئی ایڈن گارڈنز شائقین سے بھر جائیں۔

پاک بھارت میچ میں پانچ سو، ایک ہزار اور ڈیڑھ ہزار بھارتی روپے کے ٹکٹ رکھے گئے ہیں۔

ان ٹکٹوں کی فروخت آن لائن رکھی گئی تھی اور یہ جیسے لکی ڈرا کی طرح تھی کہ پہلے خود کو رجسٹر کرائیں پھر آپ کی قسمت کہ آپ ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

بھارت اور پاکستان میں اعزازی ٹکٹ اور اپنے دوستوں نوازنے کا کلچر عام ہے لہٰذا کوئی بعید نہیں کچھ ٹکٹ خاص مہمانوں کے لیے ایک جانب رکھ دیے گئے ہوں کہ انہیں ناراض نہیں کیا جا سکتا۔

ماضی میں جب بھی پاکستان اور بھارت کے میچ کے ٹکٹ آن لائن رکھے گئے پلک جھپکتے ہی فروخت ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں