انگلینڈ کی ’ہائی سکورنگ‘ میچ میں کامیابی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انگلینڈ کی شاندار فتح

ورلڈ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کے پہلے گروپ میں انگلینڈ نے ایک انتہائی دلچسپ اور ’ہائی سکورنگ‘ میچ میں جنوبی افریقہ کو دو وکٹوں سے ہرا دیا ہے۔

جنوبی افریقہ نے انگلینڈ کو 230 رنز کا ایک مشکل ہدف دیا لیکن انگلینڈ نے انتہائی جارحانہ انداز میں اننگز شروع کی اور پہلے تین اووروں ہی میں پہلی نصف سنچری بنالی۔

میچ اس قدر دلچسپ تھا کہ جب انگلینڈ کو میچ جتنے کے لیے صرف ایک رن درکار تھا تو جارڈن کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد اگلی گیند پر ولی رن آؤٹ ہوئے۔ یہ انگلینڈ کی آٹھویں وکٹ تھی۔

ممبئی میں ہونے والے اس میچ میں انگلینڈ کے لیے کامیابی حاصل کرنا ضروری تھی کیونکہ انگلینڈ اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز سے ہار چکا تھا۔

جیسن روائے اور ایلکس ہیلز نے اوپن کیا اور کگیسو ربادا کے پہلے ہی اوور میں پانچ چوکے لگے اور 21 رنز بنے۔ اس پر کمٹری کرتے ہوئے ناصر حسین نے کہا کہ یہ دن بولرز کا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دوسرے اوور کی پہلی گیند جو سٹین نے کی، اس پر نہ صرف کیچ ڈراپ ہوا بلکہ چوکا بھی لگا اور پھر اگلی دوگیندوں پر دو لگاتار چوکے لگے۔ ایک گیند گزری تھی کہ اگلی دو گیندیں بھی باونڈری سے باہر گئیں، ایک چھکے اور دوسری چوکے کی صورت۔

اتنا پِٹنے کے بعد بولنگ میں فوری تبدیلی ضروری ہو چکی تھی، چنانچہ ربادا کی جگہ ایبٹ کو لایا گیا۔ لیکن نتجہ وہی۔ ایبٹ کی پہلی گیند باونڈری کے باہر۔ ایبٹ نے وکٹ تو نکال لی لیکن روائے نے اپنی رفتار برقرار رکھی اور چوتھی گیند پر چھکا لگا دیا۔

ایبٹ نے آخر کار ایک یارکر کر کے ہیلز کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ ہیلز نے سات گیندوں میں 17 رنز بنائے جس میں چار چوکے شامل تھے۔

ربادا کے دوسرے اور میچ کے چوتھے اوور میں نو رن پڑے جسے کمٹیٹر نے کہا کہ ’صرف نو‘۔ چار اوور میں سکور 64 رن تھا۔

ایبٹ نے اپنے دوسرے اوور میں جیسن روائے کو آؤٹ کر دیا۔ پہلی گیند جو تقریباً یارکر تھی اور اس پر پیڈل شاٹ پر روائے چوکا لگانے میں کامیاب رہے۔ اگلی گیند پر اسی طرح کی تھی جس پر پھر روائے نے وہی شاٹ لگانے کی کوشش کی لیکن وکٹ کیپر کو ایک کیچ دے دیا۔

این مورگن بھی زیادہ دیر نہ پیچ پر کھڑے ہو سکے اور آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد بٹلر اور روٹ نے ایک مرتبہ پھر میچ کا پلڑ انگلینڈ کی طرف جھکا دیا۔

بٹلر اور روٹ کے درمیان شراکت میں صرف 23 گیندوں پر 50 رنز بنے۔ روٹ اور بٹلر کی اننگز میچ جنوبی افریقہ کی پہنچ سے دور لیے جا رہی تھی۔ انگلینڈ کو 26 گیندوں پر 45 رنز درکا تھے بٹلر سٹمپ ہو گئے۔ یہ اوور عمران طاہر کر رہے تھے اور انھوں نے اس اوور میں صرف چھ رن دیے۔

ایبٹ کے اگلے اوور میں روٹ نے ایک چوکا اور چھکا لگا کر میچ کا رخ پھر موڑ دیا۔ اب 21 گیندوں پر انگلینڈ کو 31 رنز درکار تھے۔روٹ نے44 گیندوں پر 83 رنز بنائے جس میں چار چھکے اور چھ چوکے لگے۔

کگیسو رباد نے 19 ویں اوور میں روٹ کو آؤٹ کر دیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

قبل ازیں جنوبی افریقہ کی طرف سے اننگز کا آغاز ہاشم آملہ اور کوئنٹن ڈی کاک نے کیا تھا۔ انگلینڈ کی طرف سے ڈیوڈ ولی نے بالنگ شروع کی اور پہلے اوور میں صرف دو رن دیئے۔

دوسرا اوور کرنے کے لیے ریس ٹوپلے آئے اور ان کو پہلی گیند پر ڈی کاک نے شاندار چھکا لگایا۔ ٹوپلے کو اس کے بعد دو اور چوکے لگے اور یہ بھی ڈی کاک کے بلے سے نکلے۔

ٹی ٹوننٹی مقابلے

جنوبی افریقہ کا ریکارڈ

  • کھیلے 87

  • جیتے 52

  • ہارے 34

  • بے نتیجہ 1

اس کے ساتھ ہی انگلینڈ کے کپتان مورگن ٹوپلے سے بات کرنے پہنچے۔ اگلی گیند کا سامنا کرنے کے لیے اس بار سامنے آملہ تھے۔ یہ بال ٹوپلے نے وکٹوں میں کرائی جو آف سٹمپ سے ذرا باہر آملہ کے پیڈوں پر لگی اور ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی جو ایمپائر نے رد کر دی۔

ولی کے تیسرے اوور میں ڈی کاک کے بلے میں جیسے بجلی بھر گئی۔ انھوں نے ایک چھکے کے بعد دو لگاتار چوکے اور پھر 91 میٹر دور چھکا لگا کر سکور کو 37 رنز پر پہنچا دیا۔ انھوں نے اب تک صرف 15 گیندوں کا سامنا کیا تھا اور انفرادی طور پر 36 رنز بنالیے تھے۔

اگلے اوور میں بولنگ میں تبدلی کی گئی اور معین علی کو آملہ کو بولنگ کے لیے بلایا گیا۔ آملہ بھی کوئی رعایت کرنے کے موڈ میں نہیں تھے انھوں نے معین علی کی پہلی بال پر چھکا لگایا اور ایک ہی گیند بعد چوکا لگا دیا۔ اگلی گیند پر آملہ کا ایک کیچ چھوڑ دیا گیا۔

ایک بار پھر بولنگ میں تبدیلی کی گئی اور کرس جورڈن آئیے لیکن آملہ اور ڈی کاک کے بلوں سے رنز کا سیلاب جیسے تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

اس اوور میں لگاتار تین چوکوں کے بعد چھکا اور پھر چوکا لگا۔ مجموعی طور پر اس اوور میں 22 رنز بنے۔

ٹی ٹوننٹی مقابلے

انگلینڈ کا ریکارڈ

  • کھیلے 86

  • جیتے 42

  • ہارے 39

  • ٹائی جیتے 1

  • بے نتیجہ 4

ڈی کوک نے صرف اکیس گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔ اس نصف سنچری میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔

ڈی کوک 52 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے۔ ڈی کوک کے بعد ابراہم ڈی ویلیئرزکھیلنے آئے لیکن وہ آٹھ اوور پر 16 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی وکٹ عادل رشید نے حاصل کی۔

پہلے دس اوور ختم ہونے پر جنوبی افریقہ نے 125 رنز بنائے تھے اور ہاشم آملہ نے اپنی نصف سنچری مکمل کی تھی۔ آملہ کی نصف سنچری میں بھی سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔

بارہویں اوور میں ہاشم آملہ معین علی کی ایک گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اس اوور میں انگلینڈ کو وکٹ بھی ملی اور سکور بھی کم پڑا۔

اس مرحلے پر رن بنانے کی رفتار میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی اور پندرہ اوور میں کپتان فاف ڈوپلیسی آوٹ ہو گئے۔

کافی دیر کی خاموشی کے بعد سٹیڈیم میں اٹھارہویں اوور میں شروع اٹھا جب ڈیوڈ مل نے ولی کو چھکا لگایا۔ اس اوور میں مجموعی طور پر گیارہ رنز بنے۔

میچ کے ڈیتھ اوور ٹوپلے کرانے آئے۔ ان کی پہلی ہی فل ٹاس بال کو ڈومنی نے باونڈری کے باہر پھینک دیا۔ دوسری بال جو فل ٹاس تو نہیں تھی لیکن آف سٹمپ کے باہر فل تھی اس کا بھی یہی حشر ہوا اور جنوبی افریقہ کا سکور 205 تک پہنچ گیا۔ اگلی چاروں گیندوں میں ٹوپلے کو کوئی باونڈری نہیں پڑی۔

میچ کے آخری اوور میں ڈمنی نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ انھوں نے صرف 26 گیندوں کا سامنا کیا۔ جارڈن کے اس اوور میں بھی دو چھکے لگے۔ دوسرا چھکا ملر نے لگایا یہ بھی ایک فل ٹاس بال تھی۔ آخری گیند پر چوکا کیک پر کریم ثابت ہوا اور جنوبی افریقہ نے 230 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف انگلینڈ کے لیے کھڑا کر دیا۔

اسی بارے میں