بنگلہ دیش کے دو بولروں کے ایکشن غیرقانونی، پابندی عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ پہلا موقع نہیں کہ بنگلہ دیش کی کسی بولر کا ایکشن مشکوک قرار دیا گیا ہو

انٹرنیشل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے دو بولروں آف سپنر عرفات سنی اور فاسٹ بولر تسکین احمد کے بولنگ ایکشنز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کر دیا ہے۔

سنیچر کو آئی سی سی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں بولروں کے ایکشنز کا جائزہ لیا گیا۔ عرفات کا بولنگ کروانے کے دوران بازوں کا خم 15 ڈگری سے زیادہ ہے۔ جو آئی سی سی کے قوانین کے خلاف ہے۔

بنگلہ دیش کے دو بولروں کا ایکشن مشکوک قرار

چنّئی میں واقع آئی سی سی کے ٹیسٹنگ مرکز میں ان دونوں بولروں کے بائیومکینک تجزیے کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تسکین احمد کے بولنگ کو بھی قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

اس پابندی کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کے دوران ٹیم میں متبادل بولروں کو شامل کرنے کے لیے ٹیکنیکل کمیٹی کی اجازت لینا ہو گی۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے دونوں بولر بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیل سکتے لیکن بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی رضا مندی سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

انڈیا میں جاری ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں بنگلہ دیش اور ہالینڈ کے میچ کے بعد امپائروں نے ان دونوں کے ایکشن قواعد و ضوابط کے خلاف ہونے کے بارے میں رپورٹ دی۔

بنگلہ دیش نے یہ میچ آٹھ رنز سے جیت لیا تھا تاہم تسکین اور عرفات دونوں ہی اس میچ میں وکٹ لینے میں ناکام رہے تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ بنگلہ دیش کی کسی بولر کا ایکشن مشکوک قرار دیا گیا ہو۔

سنہ 2014 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مشکوک بولنگ ایکشن کی پاداش میں بنگلہ دیش کے آف سپنر سہاگ غازی پر پابندی عائد کی تھی۔

اسی بارے میں