جمود نہ ٹوٹ سکا، پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وراٹ کوہلی نے ایک بار پھر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر دیا

میزبان انڈیا نے کولکتہ میں اپنے روایتی حریف پاکستان کو چھ وکٹوں سے ہرا کر ورلڈ ٹی20 میں آگے بڑھنے کی امیدیں برقرار رکھیں۔

ایک مشکل پچ پر بارش سے متاثرہ میچ میں ویراٹ کوہلی کے ذمہ دارانہ 55 رنز کی بدولت انڈیا نے 119 رنز کا ہدف 15.5 اووروں ہی میں حاصل کر لیا۔

اس سے قبل پاکستان اپنے ابتدائی چھ اووروں میں صرف 28 رنز بنا پایا تھا، لیکن شعیب ملک کے 26 اور عمر اکمل کے 22 رنز کی بدولت وہ 18 اوروں میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 118 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان اب تک ورلڈ کپ کے 11 میچ کھیلے جا چکے ہیں، اور 11 کے 11 میں پاکستان کو شکست ہوئی ہے۔

نیوزی لینڈ سے پہلا میچ ہارنے کے بعد انڈیا دباؤ میں تھا، لیکن اس میچ میں کامیابی کے بعد اگر وہ آسٹریلیا کو ہرا دے تو سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان بھی ابھی سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل ہے لیکن اسے آسٹریلیا کے علاوہ اب تک ناقابلِ شکست نیوزی لینڈ کے خلاف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

کولکتہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستانی ٹیم نے جو فائدہ بنگلہ دیش کے خلاف پہلا میچ جیت کر حاصل کیا تھا اس نے دوسرے ہی میچ میں گنوادیا۔

انڈین ٹیم جسے اپنے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف شکست ہوئی تھی پلٹ کر ایک مہلک وار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوراج سنگھ اور وراٹ کوہلی کی شراکت نے میچ پاکستان کی گرفت سے نکال لیا

گویا اب ٹورنامٹ میں پاکستان اور انڈیا کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع برابر ہو چکے ہیں۔

کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں شائقین کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں پاکستانی ٹیم کی جیت کی خواہش بہہ گئی۔

یہ شکست اسی تسلسل کا حصہ ہے جو آئی سی سی کے عالمی مقابلوں میں بھارت سے نہ جیتنے کی صورت میں 24 سال سے چلا آرہا ہے۔ چھ وکٹوں کی اس شکست کی بنیادی وجہ اگرچہ ایک بار پھر بیٹنگ بنی۔

سب سے تشویش کی بات یہ تھی کہ پاکستانی کپتان اور کوچ نے ایڈن گارڈنز کی وکٹ کے بارے میں غلط اندازہ لگاتے ہوئے لیفٹ آرم سپنر عماد وسیم کو ڈراپ کر کے چار فاسٹ بولروں کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

جب ٹاس جیت کر مہندر سنگھ دھونی نے میدان اپنے بولروں کے حوالے کیا اور ان کے سپنروں نے گیند کو جس طرح گھمانا شروع کیا تو شاہد آفریدی اور وقاریونس کی بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ پچ چار تیز بولروں والی ہرگز نہیں۔

ایشون، جڈیجا اور رائنا مسلسل پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے مسئلہ بنے رہے اور 20 سے 18 اوورز تک محدود کر دیے جانے والے اس میچ میں پاکستانی ٹیم کسی بھی موقعے پر بڑے سکور تک پہنچنے کی پوزیشن میں نہ آ سکی۔

پاکستان سپر لیگ کی سنچری شرجیل خان کو ٹیم میں تو لے آئی ہے لیکن وہ اس کے بعد سے کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ سکے ہیں۔

احمد شہزاد جنھوں نے پچھلے میچ میں نصف سنچری بنائی تھی اس بار اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل نہ کر سکے البتہ انھوں نے ٹی 20 انٹرنیشنل میں ہزار رنز کا سنگ میل ضرور عبور کرلیا۔

شاہد آفریدی کا اس بار تیسرے نمبر پر آنے کا فیصلہ درست ثابت نہ ہو سکا اور وہ تگ ودو ہی کرتے نظر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد سمیع نے اوپر تلے دو تلے دو وکٹیں حاصل کر کے سنسی پھیلا دی

عمراکمل نے عمران خان سے اپنی ملاقات میں ٹیم مینیجمنٹ سے اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کی سفارش کرنے کی خواہش تو ظاہر کر ڈالی لیکن آج چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے موقعے سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔

شعیب ملک ایک چھکے اور تین چوکے کی مدد سے 26 رنز کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے ٹاپ سکورر تھے لیکن وہ بھی اپنی اننگز کو بڑے اسکور تک نہ لے جا سکے۔

پاکستانی بولرز صرف 23 رنز پر تین وکٹیں حاصل کرکے میچ میں دلچسپی پیدا کی۔ محمد عامر نے روہت شرما کو پویلین کی راہ دکھائی لیکن ایڈن گارڈنز میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب محمد سمیع نے لگاتار دو گیندوں پر شیکھر دھون اور سریش رائنا کی وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔ تاہم اس کے بعد وراٹ کوہلی اور یووراج سنگھ حاوی ہوتے چلے گئے ۔

وراٹ کوہلی نے ایک بار پھر اپنی کلاس دکھائی۔

انھیں اپنی شرائط پر بیٹنگ کرنا خوب آتی ہے جو انھوں نے اس میچ میں بھی کی۔ان کی 55 رنز کی عمدہ اننگز اور یووراج سنگھ کے ساتھ 61 رنز کی اہم شراکت نے بھارت کے قدم جما دیے۔

اسی بارے میں