’قوم کو ٹیم سے زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریارخان نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم کی شکست سے انھیں سخت مایوسی ہوئی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم کی شکست سے انھیں سخت مایوسی ہوئی ہے لیکن اس ٹیم سے قوم کو زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ وہ اس وقت عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہے۔

شہریارخان نے اتوار کے روز کولکتہ میں بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں چار تیز بولرز کے ساتھ یہ میچ کھیلنا غلط فیصلہ تھا۔ٹیم میں ایک سپنر شامل ہونا چاہیے تھا۔اگر تین تیز بولرز ٹیم کو نہیں جتوا سکتے تو چوتھا بھی نہیں جتوا سکتا۔

شہریارخان نے کہا کہ وکٹ کو سمجھنے میں بھی غلطی کی گئی۔نیوزی لینڈ نے بھارت کو اس وجہ سےشکست دی تھی کہ اس نے وکٹ کو صحیح سمجھ کر ٹیم میں تین سپنرز کھلائے تھے۔

شہریارخان نے کہا کہ کپتان شاہد آفریدی کا مستقبل واضح ہے تاہم کوچ وقاریونس کے مستقبل کا فیصلہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کیا جائے گا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد شاہد آفریدی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپتان نہیں رہیں گے اور ان کی جگہ نیا کپتان تلاش کیا جائے گا۔جہاں تک وقار یونس کا تعلق ہے تو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ٹھنڈے دل سے کیا جائے گا۔

شہریار خان نے کہا کہ وقار یونس سے کیا گیا معاہدہ جون میں ختم ہو رہا ہے۔اور یہ بڑی عجیب بات ہوگی کہ ان کا معاہدہ پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران ختم ہو اور انھیں تبدیل کر دیا جائے لہٰذا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ ان کے معاہدے کی تجدید ہوتی ہے یا نہیں؟

اسی بارے میں