’خواتین کی نسبت مردوں کو زیادہ انعامی رقم ملنی چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جوکووچ کی اس رائے کو سیاسی طور پر درست نہیں قرار دیا جارہا

ٹینس کے عالمی نمبر ایک کھلاڑی نویک جوکووچ نے کھیل کے انعام کی رقم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مردوں کے لیے انعام کی رقم خواتین کی نسبت زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ اس کو دیکھنے کے لیے زیادہ لوگ آتے ہیں۔

انڈین ویلز میں بی این پی جیتنے کے بعد انھوں نے مردوں اور خواتین کے کھیل میں انعام کے پیسوں کی منصفانہ تقسیم کے لیے اعداد و شمار کو استعمال کرنے کا دفاع کیا۔

اس سے پہلے انڈین ویلز ٹینس گارڈن کے سی ای او ریمنڈ مور نے خواتین ٹور (ڈبلیو ٹی اے) کے بارے میں کہا تھا کہ عورتیں مردوں کی کامیابیوں کی وجہ سے آگے بڑھتی ہیں۔

جوکووچ کی اس رائے کو سیاسی طور پر درست نہیں قرار دیا جارہا۔

سربیا کے کھلاڑی نے مزید کہا ’خواتین نے محنت کر کہ وہ حاصل کیا جس کی وہ حق دار ہیں لیکن مردوں کا اے ٹی پی ٹینس کو بھی بہتر معاوضہ حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے‘

’اعداد و شمارکو دیکھ کر یہ واضع ہوا ہے کہ مردوں کے ٹینس میچز کو دیکھنے کے لیے زیادہ لوگ آتے ہیں اور شاید اسی لیے مردوں کو زیادہ پیسے ملنے چاہیے ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈین ویلز ٹینس گارڈن کے سی ای او ریمنڈ مور نے خواتین ٹور (ڈبلیو ٹی اے) کے بارے میں کہا تھا کہ عورتیں مردوں کی کامیابیوں کی وجہ سے آگے بڑھتی ہیں

’جب تک اعداد و شمار اور معلومات موجود ہوں گی، جیسے کہ کون سا کھلاڑی زیادہ لوگوں کو اپنے کھیل کی طرف کھینچتا ہے اور کس کھلاڑی کے کھیل کے ٹکٹ زیادہ بکتے ہیں، ان ساری معلومات کی بنا پر انعام کے پیسوں کی تقسیم اسی حساب سے ہونی چاہیے‘

مسٹر مور اس تنازعے کا حصہ بنے جب انھوں نے کہا ’اگر میں خاتون کھلاڑی ہوتا تو میں ہر رات اپنے گھٹنوں پر جھک کر اِس بات کا شکر ادا کرتی کہ روجر فیڈرر اور رافیل نیدال پیدا ہوئے کیونکہ انھوں نے ہی اس کھیل کو اُس سطح پر پہنچایا ہے جو کوئی اور نہیں کر پایا، واقعی ایسا ہی ہے‘

بعد میں انھوں نے اس بات پر معافی مانگی۔

اسی بارے میں