’پاکستانی ٹیم ناقابل اعتبار لیکن مہارت سے ُپر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیوزی لینڈ کے کوچ مائک ہیسن پاکستانی ٹیم کی صلاحیت کے معترف ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مقابل آنے والی ٹیمیں یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ اس پر لگا ہوا ’ ناقابل اعتبار ٹیم‘ کا لیبل ان کے لیے خطرہ بھی بن جاتا ہے۔

نیوزی لینڈ کے کوچ مائک ہیسن کو بھی یہ معلوم ہے اور وہ منگل کے روز ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستانی ٹیم کو کسی طور پر نظرانداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مائک ہیسن کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم ناقابل اعتبار مگر مہارت سے بھری ہوئی ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا لیفٹ آرم پیس اٹیک ہے جس میں بہت ورائٹی موجود ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ایک چیلنج ہے۔

ان کے مطابق محمد عرفان اس پیس اٹیک میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

مائک ہیسن کہتے ہیں کہ ’نیوزی لینڈ نے حالیہ دنوں میں پاکستان سے میچز کھیل رکھے ہیں لہذا ہمیں ان کے بارے میں معلومات ہیں۔ پاکستان کی بولنگ کے برعکس اس کی بیٹنگ ہمارے لیے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیسن کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں بائیں ہاتھ کے تیز بالرز اہمیت کے حامل ہیں

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اس ورلڈ ٹوئنٹی میں اپنے دونوں میچوں میں وکٹ کو سمجھ کر صحیح کومبینیشن کے ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں جس پر سب مائک ہیسن کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔

مائک ہیسن کہتے ہیں ان کی ٹیم نے حریف ٹیموں کی ویڈیوز دیکھ رکھی ہیں، ’انھیں ہرگراؤنڈ کا ریکارڈ پتہ ہے لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ وکٹ دیکھ کر اس کا صحیح اندازہ لگائیں۔‘

نیوزی لینڈ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کے کئی کھلاڑی آئی پی ایل کھیلتے رہے ہیں لہذا تمام معلومات اکٹھی کرکے کنڈیشنز کے مطابق ٹیم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ناگپور کے گراؤنڈزمین نے ان سے کہا تھا کہ وکٹ سخت اور تیز ہے اور اس پر باؤنس ہوگا لیکن ہم نے وہی کیا جو ہمیں سمجھ میں آیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف جیت کے لیے ان کی ٹیم کو سخت محنت کرنی ہوگی

مائک ہیسن کا کہنا ہے کہ موہالی میں کنڈیشنز ناگپور اور دھرم شالہ سے مختلف ہیں اور یہ نیوزی لینڈ سے بڑی حد تک ملتی جلتی ہیں لیکن ہمیں پتہ ہے کہ پچھلے دو میچوں کے مقابلے اس میچ میں ہمیں ایک اچھے بولنگ اٹیک کا سامنا ہوگا۔

مائیک ہیسن کو اس بات پر کوئی گلہ نہیں کہ ان کی ٹیم کو فیورٹ نہیں سمجھا رہا تھا بلکہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی ٹیم رڈار سے بچ نکلتے ہوئے آگے بڑھی ہے۔ دو میچز ضرور جیتے ہیں لیکن یہ اگلے میچ میں بھی کامیابی کی ضمانت نہیں اور اس کےلیے ان کی ٹیم کو سخت محنت کرنی ہوگی۔

اسی بارے میں