ٹی 20 میں کنجوسی کا انجام

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ہمارے ہاں جب بھی کوئی کنجوسی کا مظاہرہ کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں ’ کیا اسے اب قبر میں ساتھ لے کر جائےگا؟‘

ٹی 20 کرکٹ اس کھیل کی دوسری اقسام سے مختلف ہے کیونکہ ٹی 20 میں عموماً آپ ٹیسٹ میچ یا ون ڈے سے زیادہ بلے باز لیکر میدان میں اترتے ہیں۔ دو دنوں یا 50 اووروں کی بجائے ٹی 20 میں ٹیم کے پاس 20 اووروز ہوتے ہیں جن میں ’خرچ‘ کرنے کے لیے اس کے پاس 10 وکٹیں ہوتی ہیں۔

ٹی 20 کی ٹرک یہ ہے کہ آپ کچھ ایسا نہ کریں کہ لوگ میچ ختم ہونے پر آپ کو کنجوسی کا طعنہ دیں، کیونکہ بچی ہوئی وکٹیں آپ قبر میں ساتھ تو نہیں لے جا سکتے۔

نیوزی لینڈ کو یہ بات سمجھ آ گئی تھی۔ انھیں پتا چل گیا کہ ٹی 20 ایسی کرکٹ ہے جس میں اگر آپ بالکل تباہ ہو جائیں تو تب بھی میچ میں واپس آ سکتے ہیں جو دوسری قسم کی کرکٹ میں ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لیے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو تقریباً مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ شروع میں وکٹ کھو جانے کے خوف کے بغیر کھیلیں۔

اگرچہ اس ٹورنامنٹ کے تمام میچوں میں ان کی یہ حکمت عملی زیادہ کام نہیں آئی ہے، لیکن ان کی ٹیم میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ میچ میں کسی وقت بھی واپس آ سکتے ہیں۔

تاہم آج مارٹن گُپتل کی یہ حکمت عملی کام آئی۔ وہ مسلسل بولر کی سیدھ میں شارٹیں لگاتے رہے اور ان کی اننگز کی خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے تہیہ کیا ہوا تھا وہ سکور رکنے نہیں دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مارٹن گپٹل نے میچ پاکستان سے دور کر دیا

آج کوئی بھی دوسرا بلے باز کریز پر اتنی آسانی اور سکون سے کھیلتا ہوا دکھائی نہیں دیا، اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مارٹن کی اننگز کی بدولت ان کی ٹیم ایک بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

نیوزی لینڈ کی بولنگ میں بھی ہمیں ان کی ایک اور حکمت عملی نظر آئی۔ انھوں نے اپنے سکواڈ میں شامل دنیا کے کچھ بہترین بولروں کو باہر رکھا اور ان کی جگہ سپنرز کو کھلایا۔ ان کے سپنرز کام کر گئے۔

نیوزی لینڈ کے برعکس پاکستان نے یہ سارا ٹورنامنٹ خاصی کنجوسی کے ساتھ کھیلا ہے اور بغیر کسی وجہ سے اپنے اثاثوں کو بچائے رکھا۔

کھبی درست وقت پر صحیح بلے باز کو میدان میں نہیں بھیجا جاتا، اور کبھی غلط کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ بہترین بولروں سے پورے اوور نہیں کروائے جاتے اور کبھی اس وقت کے لیے بہترین کھلاڑی میدان سے باہر بینچ پر بیٹھا رہتا ہے۔

لگتا ہے کہ انھیں احساس ہی نہیں ہو رہا کہ انھیں اپنے ان اثاثوں کو فوراً استعمال میں لانا ہے۔ آپ انھیں قبر میں ساتھ نہیں لے کر جا سکتے۔

آج ہم نے بیٹنگ میں دیکھا کہ ٹاپ آرڈر بلے بازوں میں سے سپن کے خلاف سب سے کمزور بلے باز، یعنی عمر اکمل کو عین اس وقت بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا جب نیوزی لینڈ نے سپنرز سے بولنگ کرانی شروع کر دی تھی۔

یہی وہ لمحہ تھا جب میچ کا رخ تبدیل ہو گیا۔

اپنی اننگز کے اسی حصے میں پاکستان اپنے ہدف سے بہت پیچھے رہ گیا، کیونکہ انہی اووروں میں عمر اکمل اور احمد شہزاد نے پاکستان کی رنز بنانے کی اچھی اوسط کو گنوا دیا۔

انھیں چاہیے تھا کہ کم از کم شرجیل خان کی اتنی شاندار اننگز کا یہ انجام نہ کرتے۔ بہت سے لوگوں نے پاکستان کے اس ’صحت مند‘ اوپنر کا مذاق اڑایا کہ وہ اپنی جگہ سے پاؤں ہلاتے ہی نہیں اور انھیں بس ایک ہی قسم کی اننگز کھیلنا آتی ہے۔ لیکن ٹی 20 میں بہت سے بلے باز ایسے ہیں جو اپنی اسی عادت کی وجہ سے بہت کامیاب ہیں۔

اگر پوائنٹس پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی پاکستان کی جلد گھر واپسی پر حیران نہیں ہوگا۔

لیکن انھیں کچھ وقت صرف کر کے سوچنا چاہیے کہ آخر کتنی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ انھیں کنجوسی اور میچ کی صورتحال کو نہ سمجھنے کی وجہ سے شکست کا منہ دیکھنا پڑ چکا ہے۔

اسی بارے میں