بنگلہ دیش کی اپیل مسترد، تسکین احمد پر پابندی برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ عدالتی کمیشن کی سماعت کے بعد کیا گیا ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے غیر قانونی بولنگ ایکشن پر پابندی کا سامنا کرنے والے بنگلہ دیشی بولر تسکین احمد پر پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

بنگلہ دیش نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اپیل کی تھی کہ فاسٹ بولر تسکین احمد پر سے پابندی اٹھا لی جائے۔

بدھ کو آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ عدالتی کمیشن کی سماعت کے بعد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ انٹرنیشل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے دو بولروں آف سپنر عرفات سنی اور فاسٹ بولر تسکین احمد کے بولنگ ایکشنز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کر دیا تھا۔

انڈیا میں جاری ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں بنگلہ دیش اور ہالینڈ کے درمیان نو مارچ کو کھیلے گئے میچ کے بعد امپائروں نے ان دونوں کے ایکشن قواعد و ضوابط کے خلاف ہونے کے بارے میں رپورٹ دی۔

اس کے بعد 15 مارچ کو چینئی میں آئی سی سی کے منظور شدہ ٹیسٹنگ سینٹر میں ان کے ایکشن کا معائنہ ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انٹرنیشل کرکٹ کونسل نے سپنر عرفات سنی اور تسکین احمد کے بولنگ ایکشنز کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کر دیا ہے

ایکشن کے جائزے کے بعد یہ امر سامنے آیا کہ بولنگ کروانے کے دوران ان کا بازو مقررہ ڈگری سے زیادہ مڑتا ہے، جو آئی سی سی کے قوانین کے خلاف ہے جس کے بعد ان کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

تسکین احمد نے اس پابندی کے خلاف اپیل کا حق استعمال کیا ہے عدالتی کمیشن سے دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔

اس سلسلے میں گذشتہ روز مائیکل بیلف کی جانب سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے سماعت ہوئی جو کئی گھنٹے تک جاری رہی اور بعدازاں پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔

واضح رہے کہ تسکین احمد اپنے بولنگ ایکشن کے دوبارہ جائزے کے لیے آئی سی سی سے اپیل کر سکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بنگلہ دیش کی کسی بولر کا ایکشن مشکوک قرار دیا گیا ہو۔

سنہ 2014 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مشکوک بولنگ ایکشن کی پاداش میں بنگلہ دیش کے آف سپنر سہاگ غازی پر پابندی عائد کی تھی۔

اسی بارے میں