’پاکستان کی کرکٹ دس سال پیچھے رہ گئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے

پاکستان کی کرکٹ کے بڑے بڑے سابق کھلاڑیوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی پے در پے ناکامیوں کے بعد اس بات پر زور دیا ہے کہ مقامی کرکٹ کےڈھانچے اور موجودہ ٹیم کو از سر نو ترتیب دیا جائے۔

سنہ2009 میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے والی ٹیم صرف بنگلہ دیش سے جیت سکی اور پھر انڈیا اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بری طرح شکست کھانے کے بعد اب ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کو ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور دنیائے کرکٹ کے عہد ساز بولر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ کھیل کے تمام شعبوں میں ٹیم کی قلعی کھل گئی ہے اور وہ اپنی مدمقابل ٹیموں سے بہت پیچھے ہے۔

ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ ’ہم کچھ بھی ٹھیک نہیں کر رہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں شرجیل کی بیٹنگ اور کسی حد تک سمی کی بالنگ قابل اطمینان تھی، اس کے علاوہ تمام شعبوں میں ہمارا برا حال تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ موجود ٹیم پاکستان میں دستیاب بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ ’لیکن مشکل یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے عالمی سطح کے کھلاڑی نہیں ہیں اور اس کا ذمہ دار میں اپنے نظام کو ٹھہراؤں گا جو کہ بہت ناقص ہے۔‘

وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کھیل میں دس سال پیچھے رہ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نیوزی لینڈ سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ ہم نے اپنا معیار بلند نہیں کیا۔ آپ اپنی غلطیاں دہراتے ہوئے مختلف نتیجے کی توقع نہیں کر سکتے۔‘

شاہد آفریدی کو ان کی گرتی ہوئی فارم اور خراب حکمت عملی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

چھتیس سالہ آفریدی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ انھوں نے اس ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں 49رنز بنائے تھے لیکن اس کے بعد ایڈن گارڈن کی سپن وکٹ پر چار تیز رفتار بولروں کو کھلانے کے فیصلہ کی وجہ سے انھیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ان کی تیر کی سی تیزی والی لیگ سپن جو کبھی پاکستان کی جیت میں بڑی اہمیت رکھتی تھی اب مانند پڑ گئی ہے۔

پاکستان کے عظیم بلے باز اور سابق کپتان جاوید میانداد نے ایک مقامی چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ’ایک ایسا کھلاڑی جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیسا کھیلے گا وہ ٹیم کا کپتان ہے۔‘

سابق تیز رفتار بولر شعیب اختر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہاتھ میں آیا ہوا میچ ہار دیا۔ انھوں نے کہا کہ شرجیل خان کی طرف سے فراہم کیے گئے اچھے آغاز کے بعد سرفراز کو بیٹنگ آرڈر میں اوپر نہ بھیج کر ناقص حکمت عملی کا ثبوت دیا گیا۔

انھوں نے انڈین ٹی وی چینل پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ’بیٹنگ آرڈر غلط تھا اور ہم ٹی وی چینلوں پر اس بارے میں چیخ چیخ کر تھک گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ بلے بازی تکنیک کے اعتبار سے درست نہیں ہے۔ ’اگر آپ انھیں دیکھیں ان میں سے کوئی بھی نچلی شاٹ نہیں کھیل رہا۔‘

اب ٹورنامنٹ میں رہنے کا امکان اسی صورت ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے خلاف اپنا میچ جیت جائے اور آسٹریلیا انڈیا کو شکست دے دے۔

اسی بارے میں