یہ کیا تھا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سمتھ وکٹیں چھوڑ کر کئی فٹ دور جا کر کھڑے ہو گئے تھے

یہ کیا تھا؟

یہ کیسے ہوا؟

یہ کیوں کِیا؟

یہ ان سوالوں میں سے چند سوال ہیں جو ہماری آنے والے نسلیں ہاتھوں میں ایک تصویر لیے پوچھ رہی ہوں۔

یہ تصویر دیکھ کر آئندہ نسلوں کا پہلا ردعمل یہ ہو گا کہ یہ اس عظیم بلے باز کی مہارت تھی، یہ اس بلے باز کا مخصوص انداز تھا۔

لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ سوچنا شروع ہو جائیں گے کہ آخر بولر نے یہ بال اس جگہ کرائی ہی کیوں تھی۔

اس سوال کا جواب شاید یہی ہوگا کہ یہ تصویر میچ کے ان لمحات کی ہے جب بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے بولنگ کرانے والی ٹیم کے اوسان خطا کر دیے تھے اور بولروں کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ وہ کریں تو کیا کریں۔ جب یہ بال آپ کے بہترین بولر نے کرائی ہو، تو اس کے علاوہ کوئی اور جواب آپ کے ذہن میں آ بھی نہیں سکتا۔

جس بال کی ہم بات کر رہے ہیں وہ، آج کے میچ کی وہ بال ہے جو وہاب ریاض نے سٹیون سمتھ کو کرائی تھی۔

بال آنے سے پہلے ہی سمتھ وکٹیں چھوڑ کر کئی فٹ دور جا کر کھڑے ہو گئے تھے۔ اور اگر اس موقع پر وہاب بال سیدھی وکٹوں پر کراتے تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ سمتھ کو بولڈ کر سکتے تھے۔

لیکن وہاب نے ایسا نہ کیا، بلکہ انھوں نے سمتھ کا پیچھا کیا اور انھیں آف سٹمپ کے مزید باہر بال کرائی، جسے سمتھ نے آف سائیڈ کی بجائے بڑے اطمینان سے لیگ سائیڈ پر فِلک کر دیا۔

یہ منظر پاکستانی کرکٹ کے اس نہایت ہی برے دن کی پوری عکاسی کرتا ہے جو انھوں نے آج موہالی میں گزارا۔

آج جب آسٹریلیا کی ٹیم موہالی کے میدان میں اتری تو اس سے پہلے ان کا مڈل آرڈر مسلسل ناکامی کا منہ دیکھ چکا تھا، اور ان کے مڈل آرڈر بلے باز گذشتہ میچوں میں اپنے اوپنرز کے کیے کرائے پر بار بار پانی پھیر چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

آج وہاب ریاض نے آسٹریلیا کے بہترین بلے بازوں، عثمان خواجہ اور ڈیوڈ وارنر کو شروع ہی میں آؤٹ کر دیا تھا، اور پھر عماد عثمان نے فِنچ سے بھی ہماری جان چھڑا دی، لیکن اس کے باوجود پاکستان نے آسٹریلیا کے کمزور مڈل آرڈر کو رنز بنانے سے نہ روکا۔ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سمتھ اور میکسوئل نے پاکستانی سپنررز کو کھیلتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

جب سپنرز ان کے راستے سے ہٹ گئے تو اس کے بعد آسٹریلوی بلے بازوں نے ایک مرتبہ پھر آستینیں چڑھا لیں اور ’مہلک‘ ڈیتھ اوورز میں ہمارے تیز بولروں کی خوب دھلائی کی۔

اس کے جواب میں آج پاکستان کی بیٹنگ اتنی بری نہیں تھی جس کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن وہ اس معیار سے کوسوں دور تھی جو میچ جیتنے کے لیے درکار تھا۔

شرجیل نے ایک مرتبہ پھر اچھا آغاز فراہم کیا، اور وہ جب تک میدان میں رہے یہ لگتا تھا کہ میچ ان کے قابو میں ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کی بولنگ بالکل اچھی نہیں رہی، لیکن یہ توقع بہرحال کسی کو نہ تھی کہ وہ بے چارے پاکستان کے خلاف بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

لیکن اصل چیز جس نے آسٹریلیا کا ساتھ دیا وہ یہ تھی کہ آج پاکستانی بیٹنگ خود کو شکست نہ دے سکی۔

شرجیل ، عمر اکمل اور شاہد آفریدی کے علاوہ تمام بلے بازوں کو اچھا آغاز ملا ، لیکن ان میں سے کوئی بھی کریز پر اتنی دیر نہ رک سکا کہ پاکستان یہ میچ جیت جاتا۔ اگرچہ خالد لطیف خاصی دیر وکٹ پر رہے، لیکن ان کی رنز بنانے کے اوسط وہ نہیں تھی جس کی ضرورت پاکستان کو تھی۔

آج کم از کم یہ تو ہوا کہ آفریدی اپنی مبینہ آخری اننگز میں بھی اسی انداز میں میدان سے باہر گئے جو ان کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ دو چار بہت اچھی شارٹس، اس کے بعد جذبات کا بہاؤ، اور پھر ایک جذباتی شارٹ پر آؤٹ۔

پچھلے 20 سالوں میں چاہے وہ میچ اچھا کھیلے ہوں یا برا، آفریدی جب بھی میدان سے واپس لوٹے ان کے شائقین یہی پوچھتے رہ گئے کہ، آفریدی صاحب:

یہ کیا تھا؟

یہ کیسے ہوا؟

یہ کیوں کِیا؟

اور آج شاہد آفریدی اور ان کی ٹیم بھی ایک ایسے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہیں جس کے آغاز سے انجام تک شائقین مسلسل یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ ۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسی بارے میں