عرفان کے قد یا وہاب کے باؤنسروں کا کیا کریں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ورلڈ T20 میں سفر کا اختتام ہو گیا مگر ایک بحث جس کا آغاز اس سفر کے آغاز سے بہت پہلے ہوا تھا ابھی تک جاری ہے۔

یہ بحث ہے پاکستان کی شکست اور اس کے اسباب، اور ان میں کپتان شاہد آفریدی کے کردار کا تعین۔ اور جیوری میں کوئی اور نہیں میڈیا اور سوشل میڈیا ہے۔

جہاں روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے کئی حلقے آفریدی کے شدید مخالف ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر گذشتہ چند دنوں سے شاہد آفریدی کی حمایت میں بڑی تعداد میں مختلف پوسٹس، میمز (تصاویر جن پر تبصرے ہوتے ہیں) شیئر کی جا رہی ہیں۔

یہی وہ حلقے ہیں جو آفریدی کے خلاف ٹیم میں بغاوت کی بقول وقار یونس افواہیں وائرل کرنے میں مصروف ہیں اور ان کا ہتھیار شاہد آفریدی کی افسردہ تصویر ہے، جس میں پشیمانی دُکھ اور ندامت کےسارے جذبے شیئر کرنے والوں کو نظر آتے ہیں۔

پاکستانی ٹوئٹر پر PakNeedsBoomBoom# ٹرینڈ سامنے آیا ہے اور اس کے پیچھے اکثریت انھی لوگوں کی ہے جو پاکستان میں روزانہ ایک نیا ٹرینڈ ترتیب دیتے ہیں جس میں کام کی باتیں کم اور ٹرینڈ برائے ٹرینڈگ مسالہ زیادہ ہوتا ہے۔

آپ مندرجہ ذیل مثالوں سے خود ہی اندازہ لگا لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption آفریدی کے حق میں چلایا جانے والا ٹرینڈ

مسٹر پیٹریاٹ (حُب الوطن) ٹویٹ کرتے ہیں: ’پاکستان کو ’بوم بوم‘ کی ضرورت ہے، اُن کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ 18 کروڑ عوام کی امید۔ کوئی بات نہیں ابھی پیچھے لالہ باقی ہے۔‘

اسد یو (اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس اکاؤنٹ کے پیچھے کوئی انسان ہو) واضح طور پر اس ٹرینڈ کے بنانے والوں میں لگتے ہیں۔ اس ٹرینڈ میں ان کی کوئی 50 ٹویٹس شامل ہیں جن میں سے ایک ’کچھ کھلاڑی اپنے لیے کھیلے مگر آفریدی اپنے ملک کے لیے کھیلا۔ بوم بوم لو یو۔‘

مگر تعریفوں کے درمیان سوالات بھی ہیں جیسا کہ عرفان کھوڑو نے لکھا: ’شاہد آفریدی کو سب کچھ پتہ ہے کہ ہمیں کونسا موبائل کونسا شیمپو کونسا ایئر کنڈیشنر استعمال کرنا چاہیے مگر یہ نہیں خبر کہ کرکٹ کیسے کھیلتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption یہ تصاویر آپ نے فیس بُک یا ٹوئٹر پر دیکھی ہی ہوں گی؟

باسط سبحانی نے لکھا: ’اب یہ سب کے دیکھنے کے لیے واضح ہے کہ ہم سمیع کی پیس کا کیا کریں، عرفان کے قد یا وہاب کے باؤنسروں کا کیا کریں، اگر وہ وکٹیں نہیں لے سکتے؟‘

مظہر ارشد نے لکھا: ’اس کے بعد بھی کچھ نہیں بدلے گا، کچھ ذمےدار لوگوں کے پی سی بی کے اندر ہی مختلف شعبوں میں تبادلے ہوں گے، اور یہ قوم سب کچھ بھول جائے گی۔‘

پاکستان کا کرکٹ میچ ہو تو ایک بے چینی کا حساس ہر ایک کو رہتا ہے، جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ماہ نور احمد نے لکھا: ’میں قیامت کے روز اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی جرسی پہن کر جاؤں تاکہ خدا کو پتہ ہو کہ میں پہلے سے ہی جہنم سے گزر کر آئی ہوں۔‘

اسی بارے میں