’ٹیلنٹ کی کثرت لیکن مستقل مزاجی کی کمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹیلنٹ کی کثرت کے باوجود ہمارے کھلاڑیوں میں ٹیپمرامنٹ اور تکنیک کی کمی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجودہ بحران کا صحیح جائزہ لینے سے اصلاح ہوسکتی ہے اور پاکستان دنیا کی بہترین ٹیم بن سکتی ہے۔

اتوار کو سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ غلط جائزے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کو ناکامی کا سامنا ہوگا۔

خیال رہے کہ انڈیا میں کھیلے جارہے ورلڈ ٹی 20 میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے صرف بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں کامیابی حاصل کے تھی اور اسے انڈیا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کرکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کو سابق کھلاڑیوں اور کرکٹ ماہرین کے جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں کرکٹ ایک ادارہ نہیں بن سکا کیونکہ یہاں وزیراعظم پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ تعینات کرتے ہیں۔

انھوں نے پاکستانی کرکٹ میں اصلاحات کے لیے اپنی حکمت عملی پیش کرتے ہوئے کہا: ’کرکٹ کو ایک ادارہ بنانے کے لیے ہمیں کھیل کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کارکردگی میں تسلسل معیاری اور مسابقتی کرکٹ سے آتا ہے۔ چنانچہ جیسا کہ آسٹریلیا میں ہے، تمام ٹیلنٹ چھ علاقائی ٹیموں پر مرکوز ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیلنٹ کی کثرت کے باوجود ہمارے کھلاڑیوں میں مستقل مزاجی اور تکنیک کی کمی ہے، جس سے کارکردگی میں تسلسل نہیں آتا۔

عمران خان نے مزید تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام محکموں کو چھ علاقائی ٹیموں کو سپانسر کرنا چاہیے اور نئے کرکٹ گراؤنڈز کی تعمیر پر سرمایہ خرچ کرنا چاہیے۔

انھوں نے نیوزی لینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کی آبادی صرف 45 لاکھ ہے لیکن وہاں پاکستان سے زیادہ گراؤنڈ موجود ہیں۔

اسی بارے میں