’ہمیں نیوزی لینڈ پر ذہنی برتری حاصل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہم یہاں کے موسم اور وکٹ کو نیوزی لینڈ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں: بین سٹوکس

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر بین سٹوکس کا کہنا ہے کہ چونکہ انگلینڈ حالیہ عرصے میں نیوزی لینڈ کو ہرا چکا ہے اور ہمارے کھلاڑیوں کو دہلی کی پچ کی بہتر سمجھ ہے، اس لیے ہمیں نیوزی لینڈ پر ’ذہنی برتری‘ حاصل ہے۔

ورلڈ ٹی 20 کا پہلا سیمی فائنل بدھ 30 مارچ کو انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے۔

اگرچہ نیوزی لینڈ اپنے گروپ میں چاروں میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچا ہے، لیکن ورلڈ ٹی 20 کے وارم اپ میچ میں وہ انگلینڈ سے ہار گیا تھا۔ اس سے قبل انگلینڈ نیوزی لینڈ کو ایک روزہ میچ اور گذشتہ موسم گرما میں ٹی 20 سیریز میں بھی ہر چکا ہے۔

جہاں تک دہلی کی وکٹ کا تعلق ہے تو نیوزی لینڈ نے اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک یہاں کوئی میچ نہیں کھیلا ہے، جبکہ بدھ کا سیمی فائنل اس وکٹ پر انگلینڈ کا مسلسل تیسرا میچ ہو گا۔

بین سٹوکس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہاں کے موسم اور وکٹ کو نیوزی لینڈ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔‘

آل راؤنڈر بین سٹوکس کے بقول ’ اید ہمیں یہاں نیوزی لینڈ پر ذہنی برتری حاصل ہو گی۔ ہم نے انھیں ورام اپ میچ میں بھی ہرا چکے ہیں اور موسم گرما میں بھی ہرا چکے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان دومیچوں کی بنیاد پر بدھ کے میچ کو آسان سمجھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بدھ کا سیمی فائنل دہلی میں انگلینڈ کا مسلسل تیسرا میچ ہو گا۔

اگرچہ انگلینڈ اپنے پہلے گروپ میچ میں ویسٹ انڈیز سے شکست کھا چکا ہے اور دوسرے میں جنوبی افریقہ اس کے خلاف 229 رنز کا بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، لیکن سٹوکس کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم میں جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف اتنا بڑا ہدف ملنے کے باوجود انگلینڈ نے یہ میچ جیت لیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلینڈ میں ٹیم سپرٹ موجود ہے۔

’جس طرح ہم نے پہلے تینوں میچوں میں کھیل کا پانسہ پلٹا ہے، اس کے بعد سے ہمارے جذبے بہت بلند ہیں۔‘

’ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ٹیم مضبوط ہے اور ہمیں موت قبول نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری ٹیم جوان ہے۔جس طرح ہم نے یہ ٹورنامنٹ کھیلا ہے، وہ بڑی بات ہے۔‘

ٹی 20 کی عالمی درجہ بندی میں اس وقت نیوزی لینڈ انگلینڈ سے دو درجے اوپر ہے۔ نیوزی لینڈ نہ صرف گذشتہ سال ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا تھا، بلکہ اپنے گذشتہ 13 میں سے 12 میچ جیت چکا ہے۔

سٹوکس کا کہنا تھا ’ ہم اس سیمی فائنل میں اس ذہن کے ساتھ نہیں جا رہے کہ ہم یہ میچ جیت چکے ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ نیوزی لینڈ ایک ٹھوس ٹیم ہے اور انھیں ہرانا اسان نہیں ہوگا، خاص طور پر ٹی 20 مقابلے میں۔‘

’لیکن اگر ہماری کارکردگی ویسی ہوتی ہے جیسی پچھلے دو میچوں میں تھی، تو ہم سیمی فائنل جیت جائیں گے۔‘

اسی بارے میں