کرکٹ کو ہیروز کی ضرورت ہے سٹارز کی نہیں: وقار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وقار یونس منگل کے روز لاہور میں پریس کانفرنس بھی کرنے والے ہیں

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہیئڈ کوچ وقار یونس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر قوم سے معافی مانگ لی اور کہا ہے کہ شکست کی وجوہات بورڈ کے سامنے رکھ دی ہیں۔

لیکن مستقبل میں جیت کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لانا ہوگی۔

* استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں: وقار یونس

لاہور سے مقامی صحافی اے این خان نے بتایا کہ وقار یونس نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں ورلڈ کپ اور ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی شکست کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کی۔

وقار یونس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ میگا ایونٹ میں شکست پر پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں قوم کی ماؤں اور اپنی ماں سے بھی معافی کے خواستگار ہیں۔

وقار یونس نےکہا کہ ہمیں واضح کرنا ہو گا کہ کون ہیرو ہے اور کون سٹار ہے۔ ہمیں سٹارز نہیں ہیروز چاہئیں، کرکٹ ہیروز کا کھیل ہے سٹارز کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری ایمانداری سے اپنا کام کیا اور آگے بھی کریں گے لیکن یہ وقت کاسٹمیٹکس سرجری کا نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی کا ہے جس کا آغاز ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی سے کرنا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کے اندر سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ آنکھیں بند کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، آنکھیں کھولنا ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس نے کہا کہ آنکھیں کھولنا ہوں گی اور سیاست کو نکالنا ہوگا

وقار یونس نے کہا کہ اگر ان کے جانے سے ٹیم کی پرفارمنس بہتر ہوسکتی ہے تو آج ہی ہٹا دیا جائے لیکن کوچ یا کپتان کو ہٹانے سے یا چیئرمین شہریار خان اور نجم سیٹھی کو تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

ہمیں غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہوگی، حقائق چھپانے کا وقت نہیں بلکہ سامنے لاکر ان کی روشنی میں طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرنے کا وقت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وقار یونس نے کہا کہ کرکٹ ٹیم میں کوئی سیاست یا گروپ بندی نہیں ہے اور نہ ہی لڑکے اس قابل ہیں کہ وہ ٹیم کے اندر گروپ بناسکیں، مسئلہ صرف پرفارمنس کا ہے جو ہم نہیں دے سکے۔

وقار یونس نے کہاکہ انہوں نے شکست کی وجوہات سے بورڈ کو آگاہ کردیا ہے اور بتادیا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ پر توجہ دینا ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح کئی سالوں تک بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہ کر بھی جنوبی افریقہ نے کیا اور پابندی کے خاتمے کے فوری بعد بھی ایک مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آئی۔ صرف کوچ تبدیل کرکے وٹمور، لاسن یا باب وولمر کو لانے سے کھیل بہتر نہیں ہوسکتا۔

اسی بارے میں