ٹی 20 میں ہار جیت کی لکیر باریک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پچھلے سال جب بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو اٹھا کر ورلڈ کپ سے باہر پھینکا تھا تو کسی کو زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی۔

حیرت ہوتی بھی کیوں، کیونکہ کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں انگلینڈ کی ناقص کارکردگی کی تاریخ خاصی طویل ہے۔ لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ اس دن انگلینڈ میچ کیوں نہیں جیتا تھا۔ انگلینڈ کی ماضی کی ٹیموں کے برعکس، جو خود کو نئے انداز میں نہ ڈھالنے اور خطرہ مول نہ لینے کی وجہ سے بدنام رہی ہیں، گذشتہ سال کی انگلینڈ کی ٹیم میں جذبے سے بھرپور جدید دور کے کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔

ایسا لگتا ہے کہ مسئلہ ذہن کا اور حکمت عملی کا تھا جو بورڈ اور انتظامیہ کے غلط فیصلوں سے اور بھی بگڑتا رہا۔

یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ انگلینڈ بالکل تباہی کے کنارے پر تھا۔ ان کے پاس کئی اچھے اور باصلاحیت کھلاڑی موجود تھے لیکن انھیں ٹھیک طریقہ سے استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔

اور یک لخت انگلینڈ کی ٹیم اپنی بھرپور صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے لگی۔ ان کے پاس مختلف کھلاڑی تھے جو جدید طرز کی کرکٹ میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے اور ان سب کے علاوہ ان کے پاس جے روٹ جیسا کھلاڑی بھی تھا جو اس وقت دنیا کا سب سے مایہ ناز بلے باز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب وہ بھارت پہنچے تو ان کے پاس دوسری بڑی ٹیموں کے مقابلے میں آئی پی ایل کھیلنے والے کھلاڑی کم تھے اور انھیں پہلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز سے مار پڑ گئی۔

لیکن جس طرح انھوں نے جنوبی افریقہ کو سوا دو سو رنز کے ہدف کا کامیابی سے تعاقب کرکے تباہ کر دیا اس دن انھوں نے اس ٹرافی پر اپنی دعوئے داری کی مہر لگا دی تھی۔

جس طرح آج انھوں نے اس کپ میں شامل دنیا کی سب سے ذہین اور رواں ٹیم کو اتنی خوبصورتی اور آسانی سے ہرایا ہے اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ اتنی اچھی ٹیم ہے کہ اس سے خوف محسوس ہونے لگا ہے۔

آج پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ نے آغاز میں دھواں دھار چوکوں چھکوں کی حکمت عملی جاری رکھی اور گذشتہ میچوں کی طرح اس مرتبہ بھی ان کا ارادہ یہی تھا درمیان کے اووروں میں اننگز کو محستکم کریں گے اور پھر آخر میں ایک مرتبہ پھر بولروں کی پٹائی کریں گے۔

لیکن اس مرتبہ ان کا یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب نہیں ہوا جس کی وجہ ڈیتھ اووروں میں انگلینڈ کے جانب سے زبردست بولنگ تھی۔ یوں نیوزی لینڈ اتنا بڑا ہدف نہ دے سکا جس کا توقع انھیں دہلی کی اچھی وکٹ پر تھی۔ چوتھے نمبر کے بعد آنے والے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں میں سے کوئی بھی نو رنز سے زیادہ نہ بنا سکا اور انگلینڈ نے آخری چار اووروں میں صرف 20 رنز دیے۔

جاس بٹلر نے اتنا سکور اختتامی اووروں میں صرف ایک اوور ہی میں بنا لیے اور وہ بھی ایک لیگ سپنر اش سوڈھی کے خلاف۔ سوڈھی اور مچل سینٹنر، دو سپنر بولروں کی جوڑی ایک بڑی وجہ تھی کہ نیوزی لینڈ اس ٹورنامنٹ میں اب تک کامیابی حاصل کرتا رہا تھا۔ درمیان کے اووروں میں ان دونوں سپنروں کی طرف سے بلے بازوں کو جکڑ لینے کی وجہ سے اچھا آغاز حاصل کرنے کے باوجود اچھی اچھی ٹیمیں ہار گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیکن فیروز شاہ کوٹلہ کی پچ جو سپنروں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی اس پر انگلینڈ کے بلے بازوں نے ان کے خلاف طوفان برپا کر دیا۔

جیسن روائے کے تباہ کن آغاز نے انگلینڈ کے رن بنانے کی اوسط کو مطلوبہ اوسط سے ساری اننگز میں اتنی بہتر رہی کہ ایک مرحلے پر سپنروں نے اس کم کرنے کی کوشش کی بھی لیکن اس کے باوجودہ وہ بہت زیادہ نہیں گری۔ انگلینڈ نے تین اوور پہلے ہی اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔

اس موقعے پر نیوزی لینڈ کی بات نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ جب وہ یہ ورلڈ کپ کھیلنے پہنچے تھے تو کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اتنی اچھی کارکردگی دکھائے گی، لیکن جلد ہی یہ ٹیم اس ورلڈ کپ کی بہترین ٹیم دکھائی دی۔ آج کے سیمی فائنل سے پہلے نیوزی لینڈ والے نہ صرف مقامی آب و ہوا اور وکٹوں کو سمجھنے میں نہایت کامیاب رہے بلکہ کھلاڑیوں کے انتخاب اور ان کے استعمال میں بھی باقی تمام ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہے۔

لیکن اس کا کیا کریں کہ ٹی 20 کے کھیل میں ہار جیت کا فیصلہ بہت تھوڑے سے فرق سے ہوتا ہے۔

ایک اچھی بیٹنگ وکٹ پر جہاں بعد میں اوس پڑنا تھی، وہاں ٹاس ہار جانا کبھی بھی اچھی خبر نہیں ہوتی، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ نیوزی لینڈ کی قدرے مشکوک بیٹنگ لائن نے آج اپنی ٹیم کی امیدوں کی لاج نہ رکھی اور وہ انگلینڈ کو بڑا ہدف دینے میں ناکام رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مرتبہ پھر نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں ہی ایک بڑے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے۔

اب انگلینڈ کی ٹیم فائنل اس اعتماد کے ساتھ کھیلےگی کہ وہ جس ٹیم کو جب چاہے، جہاں چاہے شکست دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں