ایڈن گارڈن جیسا جنون کہاں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اینڈن گارڈن تاریخ کا شاہد

اگر مجھے دنیا کے تین بہترین کرکٹ کے میدانوں کے نام بتانے کے لیے کہا جائے تو میرا ایک ہی جواب ہوگا، لارڈز کرکٹ گروانڈ انگلینڈ، ایڈن گارڈن کولکتہ اور میلبرن کرکٹ گروانڈ آسٹریلیا۔

ان تینوں میدان میں کھیلنے کی بات ہی کچھ اور ہے کہ جو دنیا کے کسی دوسرے اور میدان کی نہیں ہے۔

لارڈز کرکٹ گروانڈ کرکٹ کا گھر ہے، ایڈن گراڈن میں تمائشائیوں کی تعداد اور جوش و خروش جو کسی اور میدان میں نہیں ملتا اور میلبرن کے گراونڈ کی ہیبت ہی ایسی ہے جہاں کھیلنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ سنہ 1850 اور 1860 کی دہائی تھی جب ایڈن گارڈن میں پہلی گیند کرائی گئی تھی۔ اس کے بعد 1933 اور 1934 کے سیزن میں یہاں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا، جب انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ڈگلس جارڈن کی قیادت میں انڈیا کے دورے پر گئی تھی۔

اس کے بعد سے اب تک ایڈن گارڈن نے بے شمار تاریخی اور بڑے میچ دیکھیں ہیں۔

سنہ 1987 کا ورلڈ کپ فائنل، سنہ 1989 کا نہرو کپ فائنل، ہیرو کپ سیمی فائنل اور فائنل ۔۔۔ اس سطح کے میچوں کی فہرست بہت طویل ہے۔

تاریخ، روایت، احساس اور جذبات اگر آپ ان سب کو یکجا کریں تو آپ کو ایڈن گارڈن کے سحر کا اندازہ ہوگا جو کہیں اور نہیں ملے گا۔

کیا چیز کولکتہ کے اس میدان کو ایڈن گارڈن بناتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس کا ہیبت ناک حجم، تمائشائیوں کی تعداد اور ان کے شور سے لرزتی ہوئی فضا اور تماشائیوں کا کرکٹ کے لیے غیر معمولی جنون یہ سب اسی ہی میدان کا خاصا ہیں۔ یہ سب عناصر اس میدان کو ایڈن گارڈن بناتی ہیں۔

ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ اس سٹیڈیم میں ایک لاکھ تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اسے اب کم کر کے ستر ہزار کر دیا گیا ہے لیکن یہاں جوش اور جنون میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

آپ انڈیا میں کرکٹ کا شوق رکھنے والے کسی بھی شخص سے پوچھیں کہ اس کا پسندیدہ گروانڈ کونسا ہے اس کا جواب ہوگا ایڈن گارڈن۔ ایڈن گارڈن میں اچھی کارکردگی یا سنچری کسی بھی کھلاڑی کے کیرئر کی معراج ہوتی ہے۔ اسی لیے ایڈن گارڈن انڈیا کا بہترین کرکٹ گروانڈ ہے۔

ایڈن گارڈن کی میری پہلی یاد

میرا تعلق کولکتہ سے ہے، اسی لیے یہ بہت قدرتی امر ہے کہ میں نے بہت کم عمری ہی میں کرکٹ دیکھنی شروع کر دی تھی۔

مجھ یاد ہے کہ سنہ 1979 اور سنہ 1980 کے سیزن میں میں پہلی مرتبہ ایڈن گارڈن گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک ایڈن گارڈن میں ہونے والا کوئی میچ میں نے چھوڑا نہیں۔

ایڈن گارڈن پر کھیلے جانے والے کئی ایک میچ میرے یاد گار میچ ہیں۔

سنہ 1987 کا ورلڈ کپ فائنل ان میں سے ایک ہے۔ انڈیا اس میچ میں کھیل نہیں رہا تھا اور یہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہو رہا تھا۔ سٹیڈیم میں ایک لاکھ شائقین موجود تھے۔ گو کہ انڈیا نہیں کھیل رہا تھا لیکن کرکٹ ہو رہی تھی اور سب کو اس کا جنون ہے۔

ایک اور یاد گار ترین میچ سنہ 1993 کا ہیرو کپ سیمی فائنل ہے۔ یہ پہلا میچ تھا جو فلڈ لائٹس میں کھیلا جا رہا تھا۔ یہ میچ آدھی رات کے قریب ختم ہوا۔ سچن تندولکر کی جنوبی افریقہ کے خلاف نہ بھولنے والی اننگز۔ ہم خوشی سے پاگل ہو رہے تھے اور ہم نے اپنی قمیضیں اتار کر ان سے مشعلیں بنا لیں۔

اس کے بعد سنہ 2001 میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ۔وی وی ایس لکشمن نے 281 رنز بنائے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد گروانڈ میں موجود تھے۔ وہ انڈیا کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے ذرا تصور کریں کہ آسٹریلوی کھلاڑی کتنے دباؤ میں ہوں گے۔

ایڈن گارڈن پر میچ دیکھنے کا اپنا الگ ہی مزا ہے۔

آج بھی جب میں کلب ہاؤس جاتا ہوں اور پریس باکس میں داخل ہوتا ہوں، اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ میچ دیکھتا ہوں، میکسیکن ویو یا شائقین جو لہریں بناتے ہیں ایک سرے سے اٹھتی ہیں اور سٹیڈیم میں گھوم جاتی ہیں یہ سب کچھ ایک ایسا محصور کن تجربہ جو کہیں اور نہیں ملتا۔

شائقین کے ہنگاموں کی تاریخ

ایڈن گارڈن میں شائقین کے ہنگاموں کی بھی ایک تاریخ ہے۔

یہ 1960 کی دہائی میں شروع ہوتی ہے۔

سب سے زیادہ بدنام زمانہ واقع سنہ 1967 کا ہے۔ پولیس کو صورت حال قابو میں کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرنا پڑ گیا تھا۔ سر گیری سوبر اور ان کے ساتھ ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کو میدان اپنے ہوٹل تک بھاگ کر جانا پڑا تھا۔ انھیں بھاگنا پڑا کیونکہ انھیں یہ لگا کہ شائقین ان پر حملہ کر دیں گے۔ لیکن وہ ان کا نشانہ نہیں تھے۔ یہ مسئلہ سٹینڈ میں گنجائش سے زیادہ شائقین کا تھا جس سے ہنگامہ شروع ہوا اور لوگ مشتعل ہو گئے۔

اس کے دو سال بعد سنہ 1969 میں بھگدڑ میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سنہ 1999 میں انڈیا اور پاکستان کے ٹیسٹ میچ کے دوران پولیس کو سٹیڈیم خالی کرانا پڑگیا تھا اور پھر خالی سٹڈیم میں میچ ہوا تھا۔ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب سچن تندولکر کو غلط آؤٹ دے دیا تھا اور شائقین آپے سے باہر ہو گئے تھے۔

لیکن اب سکیورٹی انتظامات سخت کر دیےگئے ہیں۔ تلاش کے ساتھ ساتھ کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا نہیں ان کی فہرست بھی وضح کر دی گئی ہے۔ جیسے کہ آپ پانی کو بوتل لے کر میدان میں ہیں جا سکتے اور آپ گروانڈ کی طرف کچھ نہیں پھینک سکتے۔

لہذا میرے خیال میں اب شائقین کی ہنگامہ آرائی کا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔ وہ دن اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں