محنت اور خاندان کا ساتھ ہو تو ’کوئی چیز ناممکن نہیں‘

Image caption فوزیہ یاسر کے شوہر بھی جوڈو کے کھلاڑی ہیں دونوں آرمی کی جانب سے کھیلتے ہیں

جنوبی ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کے لیے جوڈو کے کھیل میں طلائی تمغہ جیتنے والی خاتون فوزیہ یاسر نے حکومت اور متعقلہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سکول اور کالجز کی سطح پر مارشل آرٹس کو متعارف کرائیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مارشل آرٹس کو متعارف کرانے سے بچوں خصوصاً بچیوں میں اپنے دفاع کی صلاحیت پیدا ہو سکے اور قومی سطح اچھے کھلاڑی بھی مہیا ہو سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بچیوں کو اِس کھیل کی جانب راغب کرنے اور اُن کی حوصلہ افزائی کے لیے اگر انھیں کہیں بُلایا جاتا ہے تو وہ اُس کے لیے حاضر ہیں۔

فوزیہ یاسر نے کہا کہ’میں نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں میں چاہتی ہوں کہ وہ مجھے دیکھیں کہ میں بھی ایک عام لڑکی ہوں خاتونِ خانہ ہوں، اُس کے باوجود بھی میں محنت کر کے ایک بچی کی ماں ہوتے ہوئے گولڈ میڈل لا سکتی ہوں تو باقی لڑکیاں بھی لا سکتی ہیں، وہ بھی باہر نکلیں ، کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔‘

Image caption ’میں نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں‘

اُنھوں نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے کسی بھی مقابلے کی تیاری اُن کے لیے انتہائی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ اُن کی مصروفیات بڑھ گئی ہیں لیکن جب اُنھیں پاکستان کے لیے کھیلنا ہوتا ہے تو وہ خوب جان لگاتی ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اِن سارے مقابلوں کے دوران اُن مدد کون کرتا ہے تو فوزیہ یاسر نے بتایا ’میرے شوہر نے میری بڑی مدد کی ہے کیونکہ میری بیٹی کی پیدائش کے بعد میرا وزن 20 کلوگرام بڑھ گیا تھا میں نے اُسے کم کیا اور پھر نیشنل چیمپئن شپ کھیلی جس میں طلائی تمغہ جیتا اُس کے بعد جنوبی ایشیائی کھیلوں میں بھی۔‘

’میرے خاوند نے پاکستان میں میری بیٹی کو سنبھالا، وہ مجھ سے دور تھی لیکن پاکستان کو میری ضرورت تھی تو میں نے خوب محنت اور انڈیا میں طلائی تمغہ جیتا، مجھے اِس کی بہت خوشی ہے۔‘

فوزیہ یاسر نے بتایا کہ اُن کے شوہر بھی جوڈو کے کھلاڑی ہیں دونوں پاکستان آرمی کی جانب سے کھیلتے ہیں اور اُن کی بیٹی کا نام مریم ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا مریم بھی جوڈو کھیلی تو فوزیہ نے ہنستے ہوئے کہا ’اُس کی جوڈو تو گھر سے ہی شروع ہو جائے گی۔‘

اسی بارے میں