’پی سی بی نے کپتان بنایا ہے تو ان کی بھی سننی پڑے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ وہ ایک سال سے ٹیم کے نائب کپتان کی حیثیت سے حالات و واقعات کو اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں

پاکستان کی ٹی 20 ٹیم کے نو منتخب کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ بطور کپتان وہ ٹیم کو متحد کرنے اور پی سی بی کی پالیسی کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے۔

لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کپتان بننے پر وہ بہت خوش ہیں اور حال ہی میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں بطور کپتان کھیل کر انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

پی ایس ایل میں سرفراز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان تھے، جس نے خلافِ توقع ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

٭ سرفراز باہر کیسے بیٹھ سکتا ہے؟

’پی ایس ایل میں کیون پیٹرسن اور کمار سنگاکارا جیسے سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر نہ صرف مزہ آیا بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھا بھی۔‘

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ’ویویئن رچرڈز نے مجھے بحیثیت کپتان بہت اعتماد دیا اور کہا کہ جو تمہارا فیصلہ ہے وہی میرا فیصلہ ہے۔ معین خان (کوچ) سے بھی اچھی کوآرڈینیشن رہی۔ ان چیزوں سے آگے بھی بہت فائدہ ہوگا۔‘

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ وہ ایک سال سے ٹیم کے نائب کپتان کی حیثیت سے حالات و واقعات کو اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’یقیناً کپتانی مشکل کام ہے۔ پوری قوم کی نظریں آپ پر ہوتی ہیں۔ لیکن انشااللہ مل بیٹھ کا مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

’ایک اچھی ٹیم بنانے کی کوشش کریں گے جو پاکستان کے لیے اچھا کھیلے۔‘

’میری کوشش یہ ہوگی کہ تمام کھلاڑیوں کو ایک ٹیم بنا کر کھیلیں۔ کپتان کا کھلاڑیوں سے تعلق نہایت اہم ہے۔ میری کوشش یہ ہے کہ کپتان اور ٹیم کے لڑکوں کا تعلق اچھا بناؤں تاکہ وہ میرے بات سمجھ سکیں اور میں ان کی بات کو سمجھ سکوں۔‘

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ’موجودہ ٹیم میں موجود لڑکے سمجھدار ہیں اس لیے انھیں ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرنے پڑے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ دس سال کے کریئر میں سینیئر کھلاڑیوں کی جانب سے ہر موڑ پر رہنمائی کا شکر گزار ہیں۔

شاہد آفریدی، عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ٹیم میں شامل کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا کام نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ ہوگا۔ تاہم انھوں نے کہا: ’یہ سب عظیم کھلاڑی ہیں اور میں نے شاہد آفریدی سے بڑا سپر سٹار نہیں دیکھا۔‘

کپتان کے اختیارات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’پی سی بی کی پالیسی کے مطابق چلنے کی کوشش کریں گے۔ ظاہر ہے انھوں نے کپتان بنایا ہے تو ان کی بھی سننی پڑے گی اور کوشش کروں گا کہ وہ بھی میری بات سنیں۔‘

سرفراز احمد کا کہنا تھا: ’یونس خان نے کپتانی کے حوالے سے پہلے بھی رہنمائی کی۔ بطور کپتان مصباح الحق سے بھی بہت سیکھا، مزید ضرورت پڑی تو آئندہ بھی ان سے مشورے لوں گا۔‘

ٹیم کے ممکنہ کوچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پی سی بی اور مینیجمنٹ کا ہے۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا: ’اچھی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کریں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ ٹیم لڑتی ہوئی نظر آنی چاہیے۔ ٹیم لڑے گی تو نتیجے بھی اچھے اچھے آئیں گے۔ ‘

اسی بارے میں