سرفراز کتنے با اختیار کپتان؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرفراز احمد کے لیے کپتانی نئی بات نہیں ہے

سرفراز احمد کو پاکستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان بنایا جانا غیرمتوقع نہیں۔

یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو بہت پہلے کیا جا سکتا تھا لیکن اس کے لیے موجودہ وقت کا انتظار کیا گیا جب اکثر لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ پانی سر پر سےگزر چکا ہے۔

سرفراز احمد کو خاصا پہلے ٹی ٹوئنٹی کا کپتان بنایا جا سکتا تھا لیکن شاید پاکستان کرکٹ بورڈ میں ایسے جرآت مندانہ فیصلے کی ہمت نہیں تھی۔

شاہد آفریدی کی ٹی ٹوئنٹی کپتان کی حیثیت سے تقرری پاکستان کرکٹ بورڈ نے ستمبر سنہ2014 میں کی تھی اور حیران کن طور یہ تقرری حالیہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک کے لیے کر دی تھی۔

ان 19 ماہ کے دوران پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن بورڈ نے شاہد آفریدی کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کا نہ کبھی کوئی عندیہ دیا اور نہ ہی اس پر کوئی زیادہ بات کی۔

باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ شہریار خان آفریدی سے یہ وعدہ کر چکے تھے کہ کچھ بھی ہو جائے وہ انھیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی تک کپتان برقرار رکھیں گے۔

اب سرفراز احمد کو کپتان تو بنا دیا گیا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کتنے با اختیار ہوں گے؟ انھیں فیصلے کرنے میں کتنی آزادی ہوگی؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ٹیم میں موجود سینیئر کھلاڑی ان سے تعاون کریں گے؟

سرفراز احمد کے لیے کپتانی نئی بات نہیں ہے۔ وہ انڈر19 ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان ہیں۔

اس کے علاوہ وہ کراچی پی آئی اے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کپتانی کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی ٹیم کی قیادت ایک مختلف معاملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہد آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہنے کی خواہش ظاہر کر رکھی ہے

شاہد آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہنے کی خواہش ظاہر کر رکھی ہے لیکن ان کے مستقبل کا انحصار پاکستان کرکٹ بورڈ پر ہے کہ وہ انھیں مزید کھیلنے دے گا یا نہیں؟

ان کے علاوہ دو دیگر سابق کپتان شعیب ملک اور محمد حفیظ بھی ٹیم کا حصہ ہیں، جبکہ عمراکمل اور احمد شہزاد کی شکل میں دو ایسے کرکٹرز بھی ٹیم میں موجود ہیں جن کے بارے میں پچھلے کچھ عرصے سے ٹیم منیجمنٹ منفی رپورٹس ہی دیتی آئی ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ سرفراز احمد کو کپتانی کی طاقت اپنی کارکردگی اور اپنے فیصلوں کے ذریعے خود لینی ہوگی اور اگر سینیئر کرکٹرز ان کا ساتھ نہیں دیں گے تو یہ کرکٹرز ٹیم سے باہر ہو جائیں گے کیونکہ اس مرحلے پر بورڈ یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے فیصلے کو کوئی چیلنج کرے۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کے خیال میں سرفراز احمد میں پیدائشی قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ تمام کرکٹرز کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

سابق کرکٹرز اور شائقین سرفراز احمد سے مثبت توقعات رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انھیں ان کی صلاحیتوں کا اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ ایک دلیر کرکٹر ہیں جنھیں مشکل صورتحال میں اپنی بیٹنگ سے ٹیم کو حوصلہ دینا آتا ہے لیکن اس مرتبہ ان کا فوری امتحان قومی ٹیم کو مایوس کن صورتحال سے نکالنا اور اس کا اعتماد بحال کرنا ہے۔

اسی بارے میں