آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ آسٹریلیا بھی اپنی خواتین کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کرے گا

آسٹریلیا کی خواتین کرکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کے بعد ملک کی خواتین کھلاڑیوں کا شمار امیر افراد میں ہونے لگا ہے اور سالانہ ایک لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک کما سکتی ہیں۔

سدرن سٹار نیشنل ٹیم کی خواتین کرکٹ ٹیم کی ملک میں خواتین کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والی ٹیم بن گئی ہے۔

آسٹریلیا کی سدرن سٹار نے بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں رنر اپ کی پوزیشن حاصل کی تھی۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سی سی او جیمز سدرلینڈ کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ تمام آسٹریلویوں کا کھیل ہے اور کرکٹ آسٹریلیا آنے والے برسوں میں خواتین کھلاڑیوں پر خرچ جاری رکھے گا۔ آسٹریلیا میں اس وقت ہر عمر کے تقریباً 12 لاکھ افراد کرکٹ کھیلتے ہیں، جس میں تقریبا ایک چوتھائی تعداد خواتین کی ہے۔

’ہم کرکٹ کے کھیل کو آسٹریلوی خواتین کا اولین انتخاب بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔‘

آسٹریلیا کی قومی کرکٹ ٹیم سدرن سٹار کی خواتین کھلاڑیوں کی کمائی زیادہ سے زیادہ 49 ہزار آسٹریلوی ڈالر سے بڑھا کر 65 ہزار آسٹریلوی ڈالر ہو جائے گی جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ بگ بیش لیگ مقابلوں میں حصہ لینے والی خواتین 15 ہزارآسٹریلوی ڈالر تک کما سکیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images

اس طرح آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کی بہترین کرکٹر اپنی بنیادی تنخواہ 80 ہزار آسٹریلوی ڈالر اور میچ فیس اور غیر ملکی دوروں کا معاوضہ ملنے کے بعد سالانہ ایک لاکھ سے زائد آسٹریلوی ڈالر کما سکیں گی۔

سدرن سٹار کی کھلاڑیوں کی کم از کم آمدن 19 ہزار آسٹریلوی ڈالر سے بڑھا کر 40 ہزار آسٹریلوی ڈالر جبکہ بگ بیش لیگ مقابلوں کی کھلاڑیوں کی کم از کم تنخواہ تین ہزار ڈالر سے بڑھا کر سات ہزار ڈالر کر دی جائے گی۔

اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی سفری اور طبی سہولیات میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

آسٹریلیا میں خواتین کرکٹروں کی حالیہ کامیابی نے کئی کمینٹیٹروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جس میں بگ بیش لیگ کے مقابلوں میں شائقین کی بڑی تعداد کی پسندیدگی بھی شامل ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرن بال نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’جب خواتین مالی طور پر خود مختار ہوں گی، تو پورے ملک کی معیشت کو فائدہ ہو گا۔‘