پاکستانی کوچ کےلیےڈین جونز کے نام پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

پاکستان کرکٹ بورڈ نے وقاریونس کے استعفے کے بعد ایک بار پھر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے کوچ کی تلاش شروع کر دی ہے۔

اس مقصد کے تحت اس نے اشتہار دینے کے ساتھ ساتھ دو سابق کرکٹروں وسیم اکرم اور رمیز راجہ کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں جو نئے کوچ کی تلاش میں مدد دیں گے۔

یہ دونوں کرکٹر پاکستان سپر لیگ کے سفیر کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں اور اس وقت کمنٹری میں بھی مصروف ہیں۔ یہ چونکہ سارا سال مختلف ملکوں میں مختلف کرکٹ ایونٹس میں موجود رہتے ہیں لہٰذا انہیں عصر حاضر کے کوچز کے بارے میں معلومات رہتی ہیں اسی لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کا خیال ہے کہ وہ زیادہ بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔

یہ دونوں کرکٹر پاکستانی ٹیم کے ماضی اور موجودہ صورت حال کے تناظر میں غیرملکی کوچ کے حق میں بتائے جاتے ہیں۔ بلکہ وسیم اکرم تو گذشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کو غیرملکی کوچ کی تقرری کا مشورہ بھی دے چکے ہیں۔

غیرملکی کوچ کے طور پر فی الحال آسٹریلیا کے ٹام موڈی اور ڈین جونز کے نام لیے جا رہے ہیں۔ ڈین جونز پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ تھے۔

ٹام موڈی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں اور انھوں نے وورسٹر شائر اور آئی پی ایل میں حیدرآباد سن رائزرز کی بھی کوچنگ کی ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں وہ کمنٹیٹر کے روپ میں دکھائی دیے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو غیرملکی کوچ کے بجائے کسی پاکستانی کوچ کو دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ پاکستانی کرکٹروں کی اکثریت غیرملکی کوچ کی انگریزی اور لہجہ سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔

یہ حلقہ عاقب جاوید کو وقاریونس کی جگہ لینے کے لیے موزوں ترین سمجھ رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کوچ کا اشتہار دینے سے قبل ہی عاقب جاوید سے رابطہ کر چکا ہے اور ان کو بتا چکا ہے کہ آپ ہمارے ذہن میں ہیں۔

عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ان سے ابتدائی طور پر رابطہ ضرور ہوا ہے تاہم اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی۔

عاقب جاوید نے منگل کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ باقاعدہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دینے والے ہیں۔

Image caption عاقب جاوید عرب امارات کی ٹیم کے کوچ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں

لیکن ایک روز بعد ہی انھوں نے ان اطلاعات کے بعد کہ پاکستان کرکٹ بورڈ غیرملکی کوچ لانے کا ذہن بناچکا ہے کوچ کے عہدے کے لیے درخواست نہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

عاقب جاوید نے بی بی سی کے استفسار پر کہا کہ ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے غیرملکی کوچز رکھ کر کیا حاصل کرلیا؟

انھوں نے کہا کہ کوچ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جاکر ٹیلنٹ دیکھے لیکن جب کسی کوچ کو پاکستان کے کرکٹ سسٹم کا ہی نہیں معلوم ہوگا تو وہ چند سینیئر کرکٹرز اور سلیکشن کمیٹی پر ہی انحصار کرے گا۔ اگر کوئی بھی غیرملکی کوچ اتنا اچھا ہوتا تو اسے پاکستان کرکٹ بورڈ دوبارہ نہ بلاتا؟

وہ اس وقت متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے کوچ ہیں لیکن مستقبل میں اپنا تجربہ پاکستانی ٹیم کے کام میں لانے کے خواہش مند ہیں۔

ایک اور سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان بھی کوچ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں بھی یہ ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کاکہنا ہے کہ محسن خان کو چیف سلیکٹر بننے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انھوں نے کوچ بننے کی خواہش کے پیش نظر چیف سلیکٹر بننے کی پیشکش قبول نہیں کی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ماضی میں چار غیرملکی کوچز رچرڈ پائی بس، جیف لاسن، باب وولمر اور ڈیو واٹمور کی تقرری کر چکا ہے۔ ان میں باب وولمر ہی سب سے زیادہ کامیاب رہے تھے لیکن ان کامیابیوں میں بھی اہم کردار انضمام الحق کی قیادت کا تھا۔

اسی بارے میں