پاکستان میں بین الاقوامی سکواش لیگ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان اور مصر کے درمیان سکواش سیریز کے بعد پاکستان اس سال دسمبر میں بین الاقوامی سکواش لیگ کی میزبانی کرے گا۔

اس لیگ کے لیے امریکہ میں مقیم سکواش پروموٹر جہانزیب مسعود خاصے سرگرم ہیں، جنھوں نے پہلے دو مصری کھلاڑیوں کے کراچی میں نمائشی میچ اور پھر پاکستان اور مصر کے درمیان دو طرفہ سیریز کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جہانزیب مسعود ہیوسٹن میں ایک سکواش کلب سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سکواش کی عالمی رینکنگ کے ابتدائی 16 کھلاڑیوں سےاس لیگ میں شرکت کے معاہدے کر لیے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے دس ملکوں کے کھلاڑی پاکستان آکر یہ لیگ کھیلیں۔

انھوں نے کہا کہ جس کھلاڑی سے بھی بات ہوئی ہے وہ پاکستان آکر کھیلنے کے لیے پرجوش ہے۔ وہ یہ لیگ کراچی اور لاہور میں کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جہانزیب مسعود کا کہنا ہے کہ اس لیگ کے کامیاب انعقاد کے ذریعے وہ سکواش کی عالمی تنظیم کو یہ باور کروا سکیں گے کہ پاکستان بین الاقوامی سکواش مقابلوں کے انعقاد کے لیے محفوظ ملک ہے اور اسے بڑے ٹورنامنٹس کی میزبانی دی جائے۔

پاکستان اور مصر کے درمیان سکواش سیریز پاکستان سکواش فیڈریشن کے تعاون اور سرپرستی کے بغیر ممکن نہ تھی۔

فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر ائروائس مارشل ( ریٹائرڈ ) رضی نواب پاکستان میں سکواش کے دوبارہ فروغ کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔ وہ اس وقت ایشین سکواش فیڈریشن کے نائب صدر بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاد رہے کہ پاکستان نے آخری بار ورلڈ اوپن کی میزبانی سنہ 2003 میں کی تھی

ائر وائس مارشل ( ریٹائرڈ ) رضی نواب کا کہنا ہے کہ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کراچی ہر طرح کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے محفوظ ہے۔ اسی لیے عوامی مقام پر فورگلاس وال سکواش کورٹ نصب کیا گیا جو دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

رضی نواب کا کہنا ہے کہ یہ ابتدا ہے اور پاکستان سکواش فیڈریشن کوشش کرے گی کہ جو کام شروع ہوا ہے اسے آگے کی طرف لے جائے۔

پاکستان اور مصر کے درمیان پانچ میچوں کی یہ سیریز کراچی کے پی اے ایف میوزیم میں فورگلاس وال کورٹ میں کھیلی گئی جو مصر نے تین دو سے جیتی۔

پاکستان سکواش فیڈریشن نے اس سیریز کے موقع پر تین سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان، جان شیر خان اور قمر زمان کو خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔

ان تینوں کھلاڑیوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس طرح کے زیادہ سے زیادہ مقابلوں کے انعقاد سے دنیا کو پاکستان کے بارے میں مثبت پیغام جائےگا اور وہ وقت جلد آئے گا جب پاکستان ایک بار پھر ورلڈ اوپن اور دوسرے بڑے مقابلوں کی میزبانی کرسکے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے آخری بار ورلڈ اوپن کی میزبانی سنہ 2003 میں کی تھی۔

اسی بارے میں