ویسٹ انڈیز کا پاکستان میں کھیلنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کو ستمبر ، اکتوبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کرنی ہے

ویسٹ انڈیز نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر رواں سال پاکستان میں دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس بات کی تصدیق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کی ہے۔

شہریا ر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز پاکستان میں کھیلے جائیں لیکن ویسٹ انڈیز سکیورٹی خدشات کی بنا پر یہ میچز پاکستان آکر کھیلنے کے لیے تیار نہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کو اس سال ستمبر ، اکتوبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کرنی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کافی عرصے سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے کوشاں ہے لیکن اس کی ان کوششوں کو ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے سبب کامیابی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔

گذشتہ ماہ لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والے دھماکے میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ سنہ 2009 میں لاہور ہی میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر ہونے والے حملے کے بعد منقطع ہوگئی تھی۔

کرکٹ بورڈ نے گذشتہ سال زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان مدعو کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی بڑی ٹیم پاکستان آکر کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوئی ہے۔

پی سی بی اس سال ایک انٹرنیشنل الیون کے دورے کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے لیکن مالی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہیں۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اس سال ہونے والی سیریز کے ٹیسٹ میچوں کو مبصرین پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے گھاٹے کا سودا قرار دے رہے ہیں کیونکہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے اپنے کھلاڑیوں سے اختلافات کے سبب ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم کئی سینیئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی خدمات سے محروم ہے۔

اسی بارے میں