30 سال بعد: ’میانداد کا وہ چھکا آج بھی پریشان کرتا ہے‘

18 اپریل کا دن شاید ہی کوئی انڈین کرکٹ مداح یاد رکھنا چاہے۔ لیکن ہر سال یہ دن آتا ہے اور گذشتہ 30 سالوں سے کسی تیر کی طرح انڈین کرکٹ شائقین کے سینے میں لگتا ہے۔

دراصل، اسی دن شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستانی بلے باز جاوید میانداد نے شرما کے آخری اوور کی آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کو نہ صرف شاندار جیت دلائی بلکہ پاکستان کو ایشیا کپ کا خطاب دلایا۔

اتنا ہی نہیں اس چھکے نے اس میچ کو کرکٹ کی تاریخ کے سب سے سنسنی خیز اور یادگار مقابلوں میں سے ایک میں تبدیل کر دیا۔

میچ کی آخری گیند پر پاکستان کو چار رنز کی ضرورت تھی۔ آخری کھلاڑی کریز پر تھے جس میں سے ایک جاوید میانداد تھے جو 110 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔

اس آخری گیند سے پہلے میانداد کے ذہن میں کیا تھا اس بارے میں جاوید میانداد نے آکسفرڈ پریس سے شائع اپنی سوانح عمری ’کٹنگ ایج‘ میں تفصیل بتائی ہے۔

’میں 113 گیندوں پر 110 رنز بنا کر کھیل رہا تھا۔ میں گیند کو بہتر طریقے سے دیکھ پا رہا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ گیند بلے پر آئی تو باؤنڈری کے پار ہوگی۔ میں نے فیلڈ کا معائنہ کیا۔ مجھے پتہ تھا کہ کہاں کہاں فيلڈر ہیں۔ پھر بھی میں نے دوبارہ فیلڈ کو دیکھا۔ ایک ایک کو گنا۔‘

’لوگ کہتے ہیں کہ چیتن شرما نے ياركر پھینکنے کی کوشش کی، شاید گیند ان کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ میں آگے بڑھ کر کھیل رہا تھا اور یہ گیند میرے لیے پرفیکٹ ثابت ہوئی۔ لیگ سٹمپ پر ایک اچھی اونچائی والی فل ٹاس تھی۔ میں نے بیٹ گھمایا اور ہم جیت گئے، پاکستان جیت گیا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بہترین یاد ہے۔‘

اس ٹورنامنٹ سے قبل پاکستان نے ون ڈے کا کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیتا تھا اور اس چھکے کی بدولت ہی پاکستان ٹیم انڈیا کے خلاف ہر مقابلے سے پہلے نفسیاتی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

جاوید میانداد اس چھکے سے پاکستان کے سب سے بڑے ہیرو بن گئے.

دوسری طرف چیتن شرما کے لیے یہ چھکا ایک داغ بن گیا جو ان کے پورے کریئر پر بھاری پڑا۔

شرما ایک بولر کے طور پر اپنے پہلے ٹیسٹ کے پہلے اوور میں وکٹ حاصل کر چکے تھے۔ ایڈیلیڈ میں ایک ٹیسٹ میچ میں دس وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی بولر تھے۔

اتنا ہی نہیں ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک لینے کا پہلا کرشمہ انہوں نے ہی 1987 میں دکھایا اور آل راؤنڈر کے طور پر انہوں نے بعد میں ون ڈے میں سنچری بھی بنائی۔

لیکن لوگ انہیں اس چھکے کے لیے یاد کرتے ہیں۔ خود شرما کئی بار کہہ چکے ہیں کہ میانداد کا وہ چھکا آج بھی انھیں پریشان کرتا ہے۔

اسی بارے میں