ویسٹ انڈیز کی فاتح ٹیم کو آئی سی سی کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ڈیرن سیمی کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے آخری اوور میں سنسنی خیز کامیابی حاصل کی تھی

ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے بعض اراکین نے اس موقعے پر جس طرح اپنے کرکٹ بورڈ پر تنقید کی تھی اس پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سخت اعتراض کیا ہے۔

آئی سی سی نے کہا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

٭ ڈیرن سیمی پھٹ پڑے

انڈیا میں تین اپریل کو کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس جیت کے ہیرو کارلوس بریتھویٹ تھے، جنھوں نے آخری اوور میں لگاتار چار چھکے لگا کر اپنی ٹیم کو عالمی فاتح بنا دیا تھا۔

عالمی کپ جیتنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی نے کہا تھا: ’ہمارے بہت سے مسائل ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ بورڈ نے ہماری توہین کی ہے۔ ابھی ہمیں اپنے بورڈ کی جانب سے کوئی پیغام نہیں ملا جو بہت ہی مایوس کن ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی سی سی نے دبئی میں ہونے والی میٹنگ میں کہا کہ ان باتوں سے ٹورنامنٹ کا وقار مجروح ہوا ہے

بورڈ کی تنقید پر دوسرے ویسٹ انڈین کھلاڑیوں نے ان کا ساتھ دیا تھا کیونکہ کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ پر ان کا بورڈ سے تنازع جاری ہے۔

دبئی میں واقع آئی سی سی کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی میٹنگ کے بعد بورڈ نے کہا کہ کچھ تبصرے اور حرکتیں بے موقع اور غیر مہذب تھیں، اس سے اس ٹورنامنٹ کا وقار مجروح ہوا ہے۔

آئی سی سی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھیجے جانے والے معافی نامے کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویے سے ایک شاندار ٹورنامنٹ اور فائنل کے وقار کو دھچکہ لگا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیمی نے فائنل جیتنے کے بعد ایک جذباتی تقریر میں کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا

آئی سی سی کے صدر ششانک منوہر نے کہا: ’کرکٹ کے کھیل کو اپنے منفرد جذبے پر فخر ہے، اس میں ہار جیت کے بعد عاجزی اور کھیل کے لیے احترام شامل ہے۔‘

بورڈ نے کہا کہ ’ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے رویے پر ڈسپلن توڑنے کے الزامات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ جب دنیا کے لاکھوں افراد کے سامنے آئی سی سی کے اس قسم کا پروگرام ہو رہا ہو وہاں اس قسم کا سلوک قابل قبول نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں