عامر کا باکسنگ سے مکسڈ مارشل آرٹس میں جانے کا عندیہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عامر خان اولمپکس میں نقرئی تمغہ جیت چکے ہیں

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے باکسنگ سے مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کی جانب جانے کو مسترد نہیں کیا ہے۔

انھیں نے اپنے کریئر کے سب سے بڑے مقابلے سے پہلے رنگ کے بجائے اوکٹاگون یعنی ہشت زاویائی رنگ کی جانب جانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

29 سالہ باکسر سنیچر کو لاس ویگس میں ہونے والے ورلڈ باکسنگ چیمپیئن شپ کے اپنے مڈل ویٹ درجے میں سال الواریز سے مقابلے کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میری رفتار ایم ایم اے کے لیے بہت موزوں ہوگی جس میں مارو اور جگہ بدلو۔ میں کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دوں گا۔‘

انھوں نے کہا: ’دبئی میں ہمارے بہت سے شوز ہیں۔ میں گذشتہ سال ایس ایف ایل دیکھ رہا تھا جہاں میرے وزن کے لوگ تھے۔ قسم سے میں بغیر کسی تجربے کے اس میں اتر سکتا تھا اور کچھ کر سکتا تھا۔‘

Image caption عامر خان سنیچر کو اپنے سب سے بڑے مقابلے کی تیاروں میں مشغول ہیں

انھوں نے مزید کہا: ’میں نے سوچا بھی کہ میں جاؤں اور کچھ الٹاپلٹا کروں۔ مگر قسمت سے میں نے ایسا نہیں کیا۔ شاید مجھ پر باکسنگ میں پابندی لگا دی جاتی۔

’میں نے ایم ایم اے کی تربیت لے رکھی ہے اور مجھے اس میں مزا آیا ہے۔ اس سے الواریز جیسے لوگوں سے لڑنے کے لیے تیاری میں بہت مد مل سکتی ہے جو کہ آپ کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ عامر خان پہلے باکسر نہیں جو ایم ایم اے میں آئیں گے۔

یو ایف سی کے سابق بینٹم ویٹ چیمپیئن ہولی ہوم اس میدان میں آنے سے قبل پیشہ ور باکسر تھے۔

عامر خان ایک عرصے سے یو ایف سی کے مداح رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان میں وہ صلاحیت ہے کہ ہو اس کھیل کے بڑے سٹار سے مقابلہ کر سکیں۔

Image caption عامر خان کے لیے لاس ویگس میں ہونے والا میچ بہت اہم ہے

انھوں نے کہا ’ایم ایم اے کی تربیت کا نتیجہ یہ ہے کہ میں مجھے اپنی پوزیشن معلوم ہے کہاں ہونا ہے۔ اس میں سب پیروں کا کھیل ہے۔ ایم ایم اے باکسنگ سے قدر سست ہے لیکن آپ اس کی کمی کہنی اور گھٹنوں کے استعمال سے پوری کرتے ہیں۔

’اس بارے میں آپ بے فکر رہیں کہ میرا وار شدید ہوگا اور میرا خیال ہے کہ باکسروں کا مکا سخت ہوتا ہے۔ تصور کریں کہ مائک ٹائسن کسی کو فلور پر 20 مکے مارے تو اس کا کیا حشر ہوگا۔‘

اسی بارے میں