مجھے لگا کہ میں مرنے والا ہوں: جیمز ٹیلر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان کا ٹیسٹ کیریئر بھی پروان چڑھ رہا تھا، انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم میں موسمِ سرما کے لیے ان کی جگہ یقینی تھی۔

’میں نے اپنی صبح کی نیند پوری کی اور اس کے بعد وارم اپ کیا۔ وارم کے اختتام کے قریب میرا سینہ تنگ ہونا شروع ہو گیا۔ تنگ ہونے کے علاوہ وہ لاکھوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔

اس عجیب ردھم کے ساتھ میرا دل بھی بے قابو ہو رہا تھا۔ شاید اس وقت چار ڈگری درجہ حرارت تھا، حقیقت میں سرد، پھر میں اندر چلا گیا۔ میرا پسینہ تیزی سے زمین پر گر رہا تھا۔ سو مجھے پتہ چل گیا کہ میں ٹھیک نہیں ہوں۔

اور اس وقت مجھے لگا کہ میں مرنے لگا ہوں۔‘

یہ الفاظ ہیں انگلینڈ کے کرکٹر جیمز ٹیلر کے جب وہ اس دن کی بات کرتے ہیں جس نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی تھی۔ جس دن وہ معجزانہ طور پر بچ گے۔

وہ ان کی کاؤنٹی ناٹنگھم شائر کا پری سیزن میچ تھا جو کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کیمرج یونیورسٹی میں کھیلا جا رہا تھا۔ ان کوئی وارننگ نہیں ملی۔ کوئی وائرس نہیں تھا، کوئی نشان نہیں، کوئی علامات نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ہی تھا۔

26 کرکٹر نے بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کو بتایا کہ سب سمجھتے ہیں کہ اس کا معمول کے دل کے سکین کے دوران پتہ چلا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ’میں بہت بہتر محسوس کر رہا تھا، درحقیقت اس سیزن کے آنے تک میں شاید سب سے بہتر محسوس کر رہا تھا۔ دماغی طور پر بھی اور تکنیکی طور پر بھی۔‘

لیکن پانچ بجے شام کو وہ ہسپتال میں تھے اور سولہ دن وہاں رہے۔ اس دوران تشخیص سے پتہ چلا کہ انھیں دل کی بیماری آرہائیتھوموجینک رائٹ وینٹریکلر کارڈیومائیوپیتھی (اے آر وی سی) ہے۔

جب ٹیلر کا کھلتا ہوا کیریئر ایک دم بیماری کی وجہ سے رک گیا وہ اپنے عروج کی طرف جا رہے تھے۔ مثال کے طور پر ان کا ایک روزہ کیریئر شاندار تھا۔ ان کی لسٹ اے ون ڈے بیٹنگ آل ٹائم چوتھے نمبر پر تھی، صرف زبردست بیٹسمینوں مائیکل بیون، اے بی ڈویلیئرز اور پوجارا کے بعد۔

ان کا ٹیسٹ کیریئر بھی پروان چڑھ رہا تھا، انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم میں موسمِ سرما کے لیے ان کی جگہ یقینی تھی۔ ان کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ بلاشبہ وہ سپن کے خلاف کھیلنے والے انگلینڈ کے بیسمینوں میں سے ایک ہیں۔ وہ شارٹ لیگ پر فیلڈ کرنے والے بھی ایک بہترین فیلڈر تھے۔

انھوں نے اپنے اعتماد، شہرت، ٹیکنیک اور فٹنس کو بہتر بنانے کے عزم کی وجہ سے سب کے دل جیت لیے تھے۔

لیکن وہ اب کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption انھیں معلوم ہے اگر ان کی حالت کی بارے میں انھیں بروقت پتہ نہ چلتا تو کھیلتے رہنے سے ان کی موقت واقع ہوسکتی تھی

’جب ڈاکٹروں نے مجھے (یہ) بتایا تو میں پہلے بہت جذباتی ہو گیا تھا۔

’لیکن جب انھوں نے مجھے بتایا کہ اس طرح کے زیادہ تر کیسز کا پتہ صرف پوسٹ مارٹم میں ہی چلتا ہے تو میں نے اس وقت تقریباً رونا بند کر دیا اور اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کیا کہ میں اس حالت میں ہوں کہ آپ کو یہ کہانی سنا سکتا ہوں۔‘

دوسرے لفظوں میں اکثر لوگوں کو اس بیماری کا پتہ بھی نہیں لگتا کیونکہ جب اس کا پتہ لگتا ہے وہ مر چکے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹیلر اس لیے ابتدائی حملے میں بچ گئے کیونکہ وہ بہت زیادہ فٹ تھے۔

ٹیلر جب ہسپتال میں تھے تو اس وقت ہی میڈیا کو ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان کی بیماری کے متعلق بتایا گیا۔ معلومات سادہ رکھی گئیں لیکن اہم حقیقت بتا دی گئی کہ ٹیلر کو مجبوراً ریٹائر ہونا پڑ رہا ہے۔

’جب پریس کو یہ بیان جاری کر دیا گیا تو پیغامات کا سیلاب آ گیا، جس کی وجہ سے میری توجہ میرے کیریئر سے ہٹ گئی اور اس چیز سے کہ میں جسے سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں وہ دوبارہ نہیں کر سکوں گا۔‘

ایک پیغام فٹبالر فیبریس موآمبا کی طرف سے بھی تھا۔

26 سالہ جیمز ٹیلر کی حالت ویسی ہی ہے جیسی کہ دل کی بیماری میں مبتلا ہونے والے فٹبالر فیبریکا موامبا کی تھی۔ جن کے بیماری کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ یہ پہلا ایسا کیس ہے۔

ٹیلر کہتے ہیں کہ ’ میں خوش قسمت ہوں۔ اس وجہ سے بھی کہ جو لوگ میرے آس پاس ہیں انھوں نے میرے لیے اس سے نمٹنے میں آسانی پیدا کی ہے۔ مجھے علم ہے کہ میرے اب تک کے سفر میں، اگر میں لوگوں کو خود سے دور کردیتا تو میرا ذہنی توازن بگڑ سکتا تھا۔ میں نے اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران اچھے لوگوں کو اپنے گرد رکھا اور میں خوش قسمت ہوں کہ ان لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔‘

ٹیلر کی زندگی کا اب ایک دوسرا باب شروع ہونے والا ہے لیکن انھیں معلوم ہے اگر ان کی حالت کی بارے میں انھیں بروقت پتہ نہ چلتا تو کھیلتے رہنے سے ان کی موت واقع ہوسکتی تھی۔

اسی بارے میں