سپر لیگ: بورڈ کو منافع، فرنچائزز کو نقصان

Image caption نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں چھٹی ٹیم کے اضافے کے لیے کافی جوش وخروش پایا جاتا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کو پاکستان سپر لیگ کے پہلے ٹورنامنٹ کے دوران منافع ہوا ہے لیکن لیگ میں شریک پانچ فرنچائزز کو مالی طور پر نقصان ہوا ہے۔

پاکستان سپر لیگ اس سال متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی تھی جس میں پانچ ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔

* پی ایس ایل کتنی کامیاب؟

پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ سپرلیگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دو اعشاریہ چھ ملین ڈالرز کا منافع ہوا ہے جس میں سے تقریباً دو ملین ڈالرز پانچوں فرنچائزز کو دیے جائیں گے تاکہ ان کے نقصان کو کم سے کم کیا جائے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا خیال تھا کہ ہر فرنچائز کو ایک اعشاریہ تین ملین ڈالرز ملیں گے مگر وہ صفر اعشاریہ نو ملین ڈالرز ہی ہوسکا لہذا اب بورڈ اپنے منافع میں سے ان فرنچائزز کو ادا کرے گا کیونکہ ان فرنچائزز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ان کا زیادہ نقصان ہو۔

نجم سیٹھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ نے اندازہ لگایا تھا کہ پانچ فرنچائزز کو چھ ملین ڈالرز میں فروخت کیا جائے گا لیکن یہ فرنچائزز ایک سال کے لیے نو اعشاریہ تین ملین ڈالرز میں فروخت ہوئیں البتہ اسپانسرشپ اور گیٹ منی کی مد میں ساڑھے سات ملین ڈالرز کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن یہ آمدنی چھ ملین ڈالرز ہوئی۔‘

پی ایس ایل کے سربراہ نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں چھٹی ٹیم کے اضافے کے لیے کافی جوش وخروش پایا جاتا ہے تاہم اس کے لیے پہلے تمام پانچوں فرنچائزز مالکان سے بات کرنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL
Image caption نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ سپرلیگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دو اعشاریہ چھ ملین ڈالرز کا منافع ہوا ہے جس میں سے تقریباً دو ملین ڈالرز پانچوں فرنچائزز کو دیے جائیں گے

اسی بارے میں