پشاور کی فٹ بال ٹیم برازیل میں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں فٹ بال کا کھیل ہمیشہ سے زورال کا شکار رہا ہے اور بین الاقوامی فٹ بال رینکنگ میں بھی پاکستان کا نام سب سے آخری درجوں میں آتا ہے۔

تاہم اب پہلی مرتبہ پاکستان کا نام فٹ بال کے کسی بین الاقوامی ایونٹ میں سامنے آیا ہے لیکن یہ عام فٹ بال نہیں بلکہ مختصر دورانیے کے فٹ بال میں یا جسے عام طورپر ’فائیو اے سائیڈ فٹ بال‘ بھی کہا جاتا ہے۔

پشاور کی ایک مقامی گھوسٹ فٹ بال کلب نے اس طرز کے پاکستان میں ہونے والے ریڈبل ٹورنامنٹ جیت کر پہلی مرتبہ نیمار جونئیر فائیو ورلڈ فائنلز کےلیے کوالیفائی کرلیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ جولائی میں برازیل میں کھیلا جائےگا جس میں دنیا بھر سے 35 ٹیمیں شرکت کر رہی ہے۔

ٹیم کے کپتان فواد اعلی شاہ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آرہا کہ پشاور کی ٹیم کسی بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہےکہ انٹر نیشنل سطح پر پہلے کہیں بھی فٹ بال کے حوالے سے پاکستان کا نام نہیں لیاگیا لیکن اب برازیل میں دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے سامنے کھیل کر ہم انھیں یہ بتا سکیں گے کہ ہمارے ملک میں بھی ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور ہم بھی فٹ بال میں ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔‘

Image caption ٹیم کے کپتان فواد اعلی شاہ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آرہا کہ پشاور کی ٹیم کسی بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کرے گی

فائیو اے سائیڈ فٹ بال میں ہر ٹیم پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کھیل کےلیے کسی بڑے گراؤنڈ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ مختصر سی جگہ میں کھیلا جاسکتا ہے۔ یہ فٹ بال عموماً ان شہروں میں کھیلا جاتی ہے جہاں بڑے بڑے میدانوں کا فقدان ہوتا ہے۔

اس طرز کے کھیل کا دورانیہ بھی دس منٹوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں کھلاڑیوں کو زیادہ پھرتی دکھانی پڑتی ہے۔ اس کھیل کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس ٹیم پر گول ہوجاتا ہے انھیں ایک کھلاڑی کم کرنا پڑتا ہے اور اس طرح دو گولوں کے خسارے سے دو کھلاڑیوں کو باہر بٹھانا پڑتا ہے۔

پشاور کے گھوسٹ کلب نے پہلے پاکستان میں نیمار ریڈبل ٹورنمینٹ جیت کر نیمار جونئیر فائیو ورلڈ فائنلز برازیل کےلیے کوالیفائی کرلیا۔ پاکستان میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ملک بھر سے تقریباً 120 کے قریب ٹیموں نے شرکت کی تھی جس میں پشاور کی ٹیم سخت مقابلے کے بعد کامیاب قرار پائی۔

فواد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں فٹ بال کا رحجان دیر سے شروع ہوا ہے لیکن فائیو اے سائیڈ فٹ بال یا فٹ سال کا کھیل نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوتا جارہا ہے اور بالخصوص بڑے شہروں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں نوجوان نسل اس میں بڑی دلچپسی لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح ان کی ٹیم نے بین الاقوامی مقابلے کےلیے کوالیفائی کرلیا اس طرح پاکستان کی عام فٹ بال بھی بہتر ہوسکتی ہے بشرطیکہ کہ حکومت توجہ دیں اور کھلاڑیوں کےلیے مواقع پیدا کیے جائیں۔

Image caption ’دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جو مالی طورپر پاکستان سے بہت کمزور ہیں لیکن فٹ بال میں بہت آگے ہے‘

صوابی سے تعلق رکھنے والے فواد علی شاہ کے مطابق فٹ بال کےکھیل کے ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں اکیڈمیاں بنائی جائے اور چھوٹے عمر سے بچوں کو تربیت دینی ہوگی جس سے ایک بنیادی ڈھانچہ بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس دن پاکستان میں فٹ بال کا بنیادی ڈھانچہ تیار ہوگیا پھر اس کھیل میں کامیابی بھی ملے گی اور ملک کا نام بھی روشن ہوگا۔

ان کے بقول دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جو مالی طورپر پاکستان سے بہت کمزور ہیں لیکن فٹ بال میں بہت آگے ہے۔

’ہمیں اس بات کی بھی بہت خوشی ہے کہ برازیل میں ہماری ملاقات دنیا کے صف اول کے کھلاڑی اور برازیل کے کپتان نیمار سے ہوگی جو ہمارے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ یہ کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن نیمار سے بھی ہماری ملاقات ہوگی۔‘

فواد علی شاہ کے مطابق ٹیم کے برازیل جانے اور وہاں قیام کرنے کے تمام تر انتظامات ایک نجی کمپنی کی طرف سے کیے گئے ہے جبکہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے ان کےساتھ کسی نے کوئی رابط نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں