سچن کی کپتانی چھوڑنے کی وجہ اظہر تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد اظہرالدین کا بھارت کے کامیاب ترین کمپتانوں میں شمار ہوتا ہے

انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے انگلینڈ کے خلاف مسلسل تین سنچریاں بنا کر دنیا کو بتا دیا تھا کہ وہ کتنے عظیم کھلاڑی ہیں۔

اظہر جس طرح سے کلائیوں کا استعمال کرتے تھے، ان میں ایک فنکاری تھی۔ انھوں نے ہر طرح کی صورت حال میں رنز بنائے۔ وہ نزاکت سے کھیلتے ہوئے گیند کو باؤنڈری کے پار بھیجتے تھے۔ ان کے شاٹس قابل دید ہوتے تھے۔

اظہر الدین کی بیٹنگ کا تقابل اگر دنیا کے دوسرے بلے بازوں سے کیا جائے تو بہت سے لوگ کہیں گے کہ ان کی بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے جو مزہ آتا تھا، وہ کسی دوسرے بلے باز کو دیکھنے میں نہیں آتا تھا۔

اظہر الدین جب ٹیم میں آئے اس وقت انڈین کھلاڑی اچھے فيلڈرز نہیں تسلیم کیے جاتے تھے، لیکن اظہر ایک شاندار فيلڈر تھے، کور، پوائنٹ یا پھر بیٹسمین کے نزدیک والی جگہوں پر وہ کمال کی فیلڈنگ کرتے تھے۔

Image caption وہ اچھے فیلڈر تھے اور ان کا شمار گاور اور ہارپر کے ساتھ دنیا کے بہترین فیلڈروں میں ہوتا تھا

وہ کپتان بھی اچانک بن گئے تھے۔ سنہ 1989 میں بھارتی ٹیم پاکستان گئی تھی، تب سری کانت کپتان تھے۔ اسی وقت انڈین کھلاڑیوں نے ایک یونین بنائی جس کے صدر سری کانت ہی تھے۔

اس وقت کرکٹ بورڈ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی طاقت ور کھلاڑی کپتان رہے۔ اس وقت یہ فقرہ مشہور ہوا تھا جب راج سنگھ ڈونگرپور نے اظہر سے پوچھا تھا: ’میاں، کپتان بنو گے؟‘

وہ سیدھے سادے کم گو کھلاڑی تھے لیکن وہ نہ صرف کپتان بنے بلکہ انڈیا کے سب سے کامیاب کپتانوں میں شمار ہونے لگے۔ بھارتی میدانوں پر ان کی ٹیم نے شاید ہی کوئی ٹیسٹ میچ گنوایا ہو جبکہ غیر ملکی پچوں پر ان کی ٹیم نے جیتنے کا شاید ہی کوئی کرشمہ دکھایا ہو۔

لیکن میچ فکسنگ میں ان کا نام آنے کے بعد ان کی شبیہ بہت خراب ہوئی۔ ان پر پہلے الزام لگا، پھر سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں اظہر سمیت چار کھلاڑیوں کے خلاف شواہد پیش کیے۔ اس کے بعد بی سی سی آئی نے ان پر تاحیات پابندی لگا دی۔

Image caption انھوں نے اپنے پہلے تین ٹیسٹ میچ میں تین سنچریاں بنائی تھیں

اگر اظہر پر پابندی نہیں لگتی تو ہم ان کا شمار سچن تندولکر، سنیل گواسکر اور راہل دڑوڈ جیسے بلے بازوں کے ساتھ کرتے لیکن فکسنگ کے سبب یہ ممکن نہیں رہا تاہم وہ دنیا کے سرکردہ بیٹسمین رہے۔

کپتان کے طور پر اظہرالدین سلیقے والے کپتان تھے، وہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے۔ وہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی بلند آواز میں نہیں بولتے تھے۔

میدان کے باہر بھی اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی میچيور ہیں اور انھیں میدان کے باہر جو کرنا ہے، کرنے دیجیے۔

لیکن جب ان پر الزام لگنے لگے تو شکوک شبہات بڑھنے لگے۔ سچن تندولکر دوسری بار جب کپتان بنائے گئے اور انڈیا کی ٹیم آسٹریلیا گئی تو 2000-1999کے دورے میں اظہر ٹیم میں نہیں تھے۔ اس دورے میں انڈیا کے کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور ٹیم بری طرح ہار گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سچن کو ایک روزہ میچوں میں اوپنر بنانے کے فیصلے میں اظہر شامل تھے

ایسے میں ون ڈے ٹیم میں اظہر کی واپسی کی باتیں ہونے لگیں، اس وقت ٹیم کے بہت سے کھلاڑیوں نے بورڈ کو لکھا تھا کہ اظہر کی واپسی ہوگی تو یہ بھارتی کرکٹ کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ان کی واپسی ہوئی۔

اظہر جب واپس آئے تو تندولکر نے کپتانی چھوڑ دی۔ تندولکر نے کبھی یہ نہیں کہا کہ انھوں نے اظہر کی واپسی کے سبب کپتانی چھوڑی تھی لیکن وہ لوگ جو کرکٹ کو فالو کر رہے تھے ان میں سے بیشتر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اسی وجہ سے تندولکر نے کپتانی چھوڑی تھی۔

جب نوجوت سنگھ سدھو انگلینڈ کے دورے سے واپس آئے تھے، اس وقت بھی لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اظہر سے کوئی کھلاڑی اتنا پریشان ہو سکتا تھا۔ سدھو کو محسوس ہونے لگا تھا کہ اظہر ان سے تمیز سے بات نہیں کرتے ہیں۔

تاہم سدھو اور اظہر کے تنازعے پر کبھی سدھو سے بات کرنا چاہیں تو وہ بات کرنے سے انکار کر دیں گے۔ اظہر نے کئی بار سدھو کو نظر انداز کیا اور عوامی سطح پر ان کی توہین کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ navjotsidhufacebook
Image caption سدھو اور اظہر کے درمیان کشیدگی کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں

اظہر کی عوام میں جو شبیہ تھی اس کے پیش نظر ایسے واقعات کا سامنے آنا حیران کن تھا۔

جہاں تک ذاتی تجربے کی بات ہے تو میں ان چند صحافیوں میں شامل تھا جس نے ان پر سخت تنقید کی تھی۔ ان پر شکوک و شبہات ظاہر کیا جا رہے تھے، لہذا میں ان کے خلاف لکھ رہا تھا۔ لیکن وہ جب بھی ملتے تھے توانھیں مجھ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں تھا۔

آج کسی بھی کھلاڑی پر آپ ذرا بھی تنقید کریں تو وہ آپ سے بات کرنا بند کر دیتے ہیں لیکن اظہر کے خلاف میں نے جتنا لکھا ہے، اتنا شاید ہی کسی دوسرے نے لکھا ہو، لیکن وہ اب بھی ملتے ہیں تو ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

اظہر جب کپتان بنے اور طویل مدت تک کپتان رہے تو ان کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن بعد میں انھیں خیال آیا ہوگا کہ کوئی نہ کوئی بہانہ پیش کرنا ہے تو انھوں نے متنازع بیان دیا تھا کہ انھیں مسلمان ہونے کی وجہ پھنسایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اظہرالدین سیاست کے میدان میں آئے اور گذشتہ روز ان پر ایک فلم ریلیز ہوئي ہے

اظہر کے اس متازع بیان سے ان کے پرستار خاصے مایوس ہوئے تھے۔ بعد میں وہ سیاست میں آ گئے اور اب مجھے نہیں لگتا ہے کہ بی سی سی آئی میں ان کا کوئی مستقبل ہے۔

وہ جس طرح سے مرادآباد سے الیکشن جیتے اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میچ فکسنگ کے تنازع کے مقابلے میں کرکٹر والی ان کی شخصیت وزنی رہی، اسی لیے تو لوگوں نے انھیں اتنے ووٹوں سے کامیاب کرایا۔

اگر فکسنگ کے تنازعے کو ایک مختصر وقت کے لیے چھوڑ کر دیکھیں تو بلاشبہ اظہر بھارت کے بڑے کرکٹر تو رہے ہی ہیں۔

(سپورٹس صحافی پردیپ میگزین سے آدیش کمار گپت کی گفتگو پر مبنی)