’ہاکی فیڈریشن انسانی سمگلنگ میں ملوث نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’پاکستانی ہاکی کو صحیح دھارے پر لانے میں تین سے چار سال لگیں گے‘

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کسی طور بھی انسانی سمگلنگ میں ملوث نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نام پر لوگوں سے پیسے بٹورنے اور ملک سے باہر بھیجنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

شہباز احمد نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اس معاملے میں نیب نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو خط بھیجا تھا جس کے جواب میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنے تمام ملحقہ یونٹس کو خبردار کردیا کہ وہ اس شخص سے دور رہیں جس کا نیب نے ذکر کیا تھا۔

شہباز احمدنے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے اس معاملے میں الیکٹرانک میڈیا کو بہت زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ہدف بناتے ہوئے کردار کشی کی گئی۔اگر میڈیا کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت تھا تو وہ کیوں سامنے نہیں لایا گیا؟۔

شہباز احمد نے کہا کہ اگر ان کے دستخط سے کسی سفارت خانے کو ویزے کے لیے خط جاری ہوا ہو یا کوئی این او سی جاری ہوا ہو تو اس صورت میں وہ ذمہ دار ہیں اگر ماضی میں کسی نے ویزوں کے لیے خط جاری کیے تو اس کے ذمہ دار وہ کیسے ہوسکتے ہیں؟ ۔

شہبازاحمد نے کہا کہ اگر کوئی شخص پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نام استعمال کرکے لوگوں کو باہر بھجوانے کا جھانسادے رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ناکہ فیڈریشن کے خلاف۔

شہباز احمد نے کہا کہ پاکستانی ہاکی کو صحیح دھارے پر لانے میں تین سے چار سال لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اولمپکس ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہے اس کی عالمی رینکنگ اس وقت دسویں ہے اور ٹیم کو تیار کیا جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا پاکستان ہاکی لیگ سے پاکستانی ہاکی دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے گی

ایسے میں اگر ٹیم اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پانچویں نمبر پر آتی ہے تو کہا گیا کہ اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا یہ بات کہنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں حقائق کا علم ہی نہیں ہے انہیں یہ نہیں معلوم کہ پاکستانی ہاکی اس وقت کس مقام پر آگئی ہے اور اسے دوبارہ اوپر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

شہباز احمد کو یقین ہے کہ پاکستان ہاکی لیگ سے پاکستانی ہاکی دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے گی۔

شہباز احمد نے اس سال چیمپئنز ٹرافی میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنی چاہیے تھی وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی موجودہ حالت کا سب کو بخوبی پتہ ہے اگر ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں جاتی تو وہ دنیا کی صف اول کی ٹیموں سے بڑے مارجن سے ہارتی اس کا مورال گرتا ساتھ ہی لاکھوں روپے بھی ضائع ہوتے لہذا وہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہو۔

ابھی انہوں نے سیف گیمز میں گولڈ میڈل جیتا ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کھلاڑیوں کا مورال بلند رہے اور اگلے سال ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کا جو ہدف ہے وہ حاصل کیا جائے۔

اسی بارے میں