دنیا کی بلند ترین میراتھن نیپالی شہری نے جیت لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2015 میں بھی یہ دوڑ ایک نیپالی شہری نے جیتی تھی

ایک نیپالی فوجی نے دنیا کی بلندترین میراتھن جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

اس میراتھن میں 150 سے زائد ملکی اور غیرملکی افراد نے شرکت کی جو نیپال میں ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے شروع ہوئی اور اس میں بید بہادر سنوورن اس کے فاتح قرار پائے۔

یہ سالانہ دوڑ ماؤنٹ ایورسٹ پہلی بار سر کرنے کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔ سنہ 1953 میں ٹینزینگ نورگے اور ایمنڈ ہلیری نے پہلی بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کی تھی۔

بید بہادر سونور نے 2000 میٹر کا ڈھلوان والا راستہ چار گھنٹوں اور دس منٹ میں مکمل کیا۔

29 سالہ سونور کہتے ہیں کہ ’یہ راستہ بہت چیلنجنگ تھا لیکن حیران کن بھی۔ مجھے اپنی فتح پر فخر ہے۔‘

میراتھن میں 30 کے قریب مقامی افراد بھی شامل تھے جبکہ 130 کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا جن میں برطانیہ، امریکہ، چین اور آسٹریلیا کے باشندے بھی شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بید بہادر سونور نے 2000 میٹر کا ڈھلوان والا راستہ چار گھنٹوں اور دس منٹ میں مکمل کیا

سنہ 2015 میں بھی یہ دوڑ ایک نیپالی شہری نے جیتی تھی۔

خیال رہے کہ نیپال میں سنہ 2015 میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور سنہ 2014 میں برفاتی تودہ گرنے سے 16 گائیڈز کی ہلاکت کے بعد یہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا پہلا سیزن ہے۔

سنہ 2016 میں بھی ماؤنٹ ایورسٹ پر حادثات پیش آچکے ہیں جن میں بلندی پر طبیعت خراب ہونے سے کئی اموات واقع ہوچکی ہیں۔

جمعے کو حکام نے بتایا کہ انھیں ایک انڈین کوہ پیما کی لاش ملی ہے جس سے رواں سیزن میں ہونے والی اموات کی تعداد چار ہوگئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میراتھن میں شریک 130 کے قریب افراد کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا

اسی بارے میں